شراب بندی پر سی ایم سمراٹ چودھری کا بڑا فیصلہ
قانون ختم نہیں ہوگا، مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ،18اپریل:بہار کی سیاست میں آج ایک بار پھر اس وقت بڑی ہلچل دیکھی گئی جب ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار اچانک موجودہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے ملنے ان کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے۔ اس اہم ملاقات کے دوران نتیش کمار کے ہمراہ نائب وزیر اعلیٰ وجے چودھری بھی موجود تھے، جہاں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے دونوں معزز لیڈروں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا موقع تھا جب نتیش کمار خود وزیر اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کے لیے پہنچے، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تقریباً 15 منٹ تک جاری رہنے والی اس مختصر مگر انتہائی معنی خیز گفتگو میں نتیش کمار نے سمراٹ چودھری اور ان کی ٹیم کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کی بہتری کے لیے اسی طرح لگن سے کام کرتے رہیں۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتظامی امور اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان یہ ہم آہنگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بہار کے سیاسی نقشے پر نئے مساوات اور تبدیلیوں کے حوالے سے مسلسل قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔اس ملاقات کا ایک اہم ترین پہلو شراب بندی کے قانون سے متعلق تھا جس پر گزشتہ کئی دنوں سے ابہام پایا جا رہا تھا۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ شاید سمراٹ چودھری کی قیادت میں شراب بندی کی پالیسی پر نظر ثانی کی جائے گی یا اسے ختم کر دیا جائے گا، اور یہاں تک کہ این ڈی اے کے کچھ ارکانِ اسمبلی بھی اس تبدیلی کے حق میں نظر آتے تھے۔ تاہم وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ ریاست میں شراب بندی کا قانون نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ اسے مزید سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے گا اور حکومت اسے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔سمراٹ چودھری کے اس دو ٹوک فیصلے نے نتیش کمار کو بے حد خوش کر دیا ہے کیونکہ شراب بندی ان کا ایک خواب اور اہم سیاسی ایجنڈا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فیصلے کی نہ صرف حکمراں اتحاد بلکہ اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی کھل کر حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا کہ سمراٹ چودھری نے نتیش کمار کے عزم کو آگے بڑھا کر ایک بہترین مثال قائم کی ہے اور وہ اس جرات مندانہ فیصلے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس ملاقات اور اس کے بعد سامنے آنے والے بیانات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بہار کی سیاست میں فی الحال استحکام اور باہمی تعاون کا دور چل رہا ہے۔
