وزیر اعظم نریندر مودی کے قوم کےنام خطاب پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب اپنے اصل مقصد سے بھٹک کر مکمل طور پر سیاسی اور جانبدارانہ ہو گیا ہے۔کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سینئر ساتھی اور لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں وزیر اعظم کے خلاف تحریکِ استحقاق (بریچ آف پریویلیج) کا نوٹس دیا ہے۔ یہ قدم اس خطاب کے بعد اٹھایا گیا ہے جو لوک سبھا میں حکومت کی حکمت عملی کو اپوزیشن کے اتحاد سے دھچکا لگنے کے بعد دیا گیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک موجودہ وزیر اعظم کا قوم کے نام خطاب ہمیشہ قومی اتحاد اور اعتماد سازی کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس بار یہ مکمل طور پر سیاسی حملوں کا پلیٹ فارم بن گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کانگریس پارٹی پر 59 بار حملہ کیا، جو اس عہدے کے وقار کے خلاف ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ رویہ ان کی مدتِ کار پر ایک “مستقل داغ” کے طور پر درج ہوگا اور اس سے جمہوری روایات کو نقصان پہنچا ہے۔ٍقابلِ ذکر ہے کہ 18 اپریل کو مسٹر مودی نے قوم سے خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق 131 ویں آئینی ترمیمی بل کے منظور نہ ہوپانے پر کانگریس اور اپوزیشن پر سخت حملہ کیا تھا۔ وزیر اعظم کے قوم کے نام خطاب کے بعد سے مسلسل تنازع برقرار ہے۔
