چیف جسٹس سوریہ کانت کا کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کرنے کا حکم
نئی دہلی، 20 اپریل:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز کہا کہ وہ مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے لیے تشکیل اپیلیٹ ٹریبونل پر ’کام نہیں کرنے‘ کا الزام عائد کیے جانے کے مدنظر کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے آج ہی رپورٹ طلب کرے گا۔ سینئر ایڈووکیٹ دیودَت کامت نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا۔ ایڈووکیٹ کامت نے کہا کہ یہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا معاملہ ہے۔ عزت مآب ججوں نے اس معاملے کو 24 اپریل کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ اپیلیٹ ٹریبونل کام نہیں کر رہے ہیں، وکیلوں کو اجازت نہیں دی جا رہی ہے، وہ صرف انٹرنیٹ اور کمپیوتر پر مبنی عرضیاں ہی لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے جڑے معاملوں کا عدالت کے سامنے تقریباً روزانہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ کامت نے دلیل دی کہ اس معاملے میں سپری کورٹ کے احکام پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہم (ہائی کورٹ کے) چیف جسٹس سے آج ہی رپورٹ منگائیں گے۔ اس معاملے میں وکیلوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دور دور سے کولکاتا آنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ٹریبونل ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے پہلے وکیل کی شکایت کو اہمیت نہیں دی، بعد میں انھوں نے پورے معاملے میں ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے چیف جسٹس سے متعلق ملی شکایت سے سپریم کورٹ آج ناراض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس بارے میں کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ لیں گے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے وکیل کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے درخواست داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
