مرکزی حکومت بڑے سیاسی اصلاحاتی قانون کی تیاری میں مصروف
ممبئی ، 15 مئی (یو این آئی) سینئر وکیل اجول نِکم نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی حکومت ملک کے سیاسی نظام میں بڑی اصلاحات لانے کے مقصد سے ایک اہم اور تاریخی قانون متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد اعلیٰ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کی جوابدہی کو مزید سخت بنانا ہے۔اجول نِکم کے مطابق مجوزہ قانون میں موجودہ نظام کی ایک بڑی خامی کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت کوئی عوامی نمائندہ یا اعلیٰ عہدیدار حراست میں ہونے کے باوجود تکنیکی طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت اگر وزیر اعظم، کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ، وزیر یا کسی اعلیٰ عوامی منصب پر فائز شخص کو مسلسل 30 دن یا اس سے زیادہ عرصے تک جیل میں رہنا پڑے، تو وہ اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا اہل نہیں رہے گا۔اجول نِکم نے بتایا کہ اس قانون کو مؤثر اور خامیوں سے پاک بنانے کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ان کے مطابق یہ کمیٹی مختلف ریاستوں کے سینئر افسران اور سیکریٹری سطح کے حکام کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہی ہے تاکہ انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کی جا سکے اور قانون کے سخت اور مؤثر نفاذ کے لیے واضح قواعد تیار کیے جا سکیں۔اجول نِکم نے اس مجوزہ اقدام کو “تاریخی” اور “انقلابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عوامی زندگی میں شفافیت کو فروغ دینا اور اقتدار میں موجود افراد کو زیادہ جوابدہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے گا کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے لیے احتساب کے معیار مزید سخت ہوں گے اور قانونی عمل سے بالاتر کوئی نہیں ہوگا۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ قانون نافذ ہوتا ہے تو اس کے ملک کی سیاست، حکومتی ڈھانچے اور عوامی نمائندگی کے نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو حکومت کی جانب سے سیاسی شفافیت، ادارہ جاتی احتساب اور انتظامی اصلاحات کی سمت میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فی الحال مرکزی حکومت کی جانب سے اس مجوزہ قانون کے مسودے یا نفاذ کے ممکنہ وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
