کیونجھار، 28 اپریل:۔ (ایجنسی) ریاست اڈیشہ کے ضلع کیونجھار میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک غریب قبائلی شخص جیتو منڈا اپنی مرحوم بہن کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے میں ناکامی کے بعد اس کی باقیات قبر سے نکال کر بینک لے آیا۔ جیتو منڈا، جو ایک ناخواندہ دیہاتی ہے، اپنی بہن کلارا منڈا کے اکاؤنٹ میں موجود 19,300 روپے حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن اڈیشہ گرامین بنک کے عملے نے اسے قانونی وارث یا نامزد فرد (نومینی) ہونے کی شرط بتائی۔قانونی پیچیدگیوں اور رہنمائی کی کمی کے باعث مایوس ہو کر جیتو نے مبینہ طور پر اپنی بہن کی قبر کھود کر اس کی ہڈیوں کا ڈھانچہ نکالا اور بینک کے باہر رکھ دیا، تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ وہ فوت ہو چکی ہے اور وہ رقم لینے کا حقدار ہے۔ اس دلخراش منظر کو دیکھ کر وہاں موجود لوگ آبدیدہ ہوگئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور جیتو کو یقین دلایا کہ انتظامیہ اس کی مدد کرے گی۔ بعد ازاں باقیات کو دوبارہ تدفین کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق جیتو قانونی طریقہ کار سے ناواقف تھا اور بینک حکام بھی اسے مناسب رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ بعد میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ میں درج نومینی بھی وفات پا چکا ہے، جس کے بعد جیتو واحد دعویدار بن گیا ہے۔ مقامی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد جیتو کو رقم فراہم کی جائے گی۔ یہ واقعہ دیہی علاقوں میں بینکاری نظام کی پیچیدگیوں اور عوامی آگاہی کی کمی کو واضح کرتا ہے۔
