صرف کوچنگ نہیں، ہوسٹل کے 18 گھنٹے کامیابی کا فیصلہ کرتے ہیں: پنکج سنگھ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 19؍ اپریل: میڈیکل کے داخلہ امتحانات کی تیاری کروانے والے ادارے ‘بایوم انسٹی ٹیوٹ ‘ (Biome Institute) کی جانب سے اتوار کو ‘پیرنٹس اسٹوڈنٹس اورینٹیشن 2026’ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام گرونانک اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں 2025 بیچ کے 1500 سے زائد طلباء اور والدین شامل ہوئے۔ اس موقع پر پورے پنڈال میں جوش و خروش اور امید کا ماحول نظر آیا۔ پروگرام کا آغاز روایتی طور پر شمع روشن کر کے کیا گیا۔ اس کے بعد طلباء کو ان کے تعلیمی معیار کے مطابق مختلف بیچوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ ماہرینِ مضامین نے تیاری کی حکمتِ عملی، وقت کی پابندی (ٹائم مینجمنٹ) اور امتحانی پیٹرن کے حوالے سے طلباء کی رہنمائی کی۔اس موقع پر بطور مہمانِ خصوصی ریمس (RIMS) کے شعبہ سرجیکل آنکولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر روہت کمار جھا، سنکلپ ہسپتال بریاتو اور صدر ہسپتال رانچی کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر شالنی کماری سمیت کئی ماہرین موجود تھے۔ انہوں نے طلباء کو نظم و ضبط، مسلسل مشق اور خود اعتمادی کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر روہت کمار جھا نے کہا کہ میڈیکل کی تیاری صرف کتابوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ذہنی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شالنی کماری نے کہا کہ باقاعدگی سے پڑھائی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
صحیح کوچنگ کے ساتھ بہتر نظام، نظم و ضبط اور نگرانی ضروری ہے
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بایوم انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پنکج سنگھ نے کہا کہ کوچنگ آپ کو پڑھا سکتی ہے، لیکن کامیابی کا فیصلہ ہوسٹل کے کمرے میں ہوتا ہے۔ اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اچھے ادارے میں داخلے کے بعد سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا، لیکن حقیقت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم دن کے صرف 6-7 گھنٹے کوچنگ میں گزارتا ہے، جبکہ باقی وقت وہ ہوسٹل یا اپنے کمرے میں ہوتا ہے، اور وہیں اس کی اصل تیاری کا تعین ہوتا ہے۔ اسی وقت میں یہ طے ہوتا ہے کہ طالب علم ریویژن کرے گا یا موبائل پر وقت ضائع کرے گا۔ اگر ایک بار پیچھے رہ گئے تو خود اعتمادی کم ہونے لگتی ہے۔ لہٰذا، بہتر تیاری کے لیے بہترین ماحول کا انتخاب کریں جہاں طالب علم کی روزانہ کی پیشرفت پر نظر رکھی جائے۔
میڈیکل کے طلباء نے امیدواروں کی حوصلہ افزائی کی
اس موقع پر میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم طلباء نے بھی شرکت کی اور امیدواروں کی حوصلہ افزائی کی۔ امن نے کہا کہ روزانہ کے چھوٹے اہداف ہی بڑی کامیابی دلاتے ہیں۔ لکھن نے مشورہ دیا کہ کسی بھی شک (Doubt) کو فوری طور پر اساتذہ سے کلیئر کریں۔ ویپول، سنت، سوربھ اور راگھو نے بھی ٹائم مینجمنٹ، مثبت سوچ اور اساتذہ کی رہنمائی پر عمل کرنے پر زور دیا
