ٹی ایم سی نے وزیر اعظم مودی پر ’آدیواسی مخالف ‘ ہونے کا الزام لگایا
جدید بھارت نیوز سروس
کولکتہ، 20 اپریل:۔ مغربی بنگال کے ضلع جھاڑ گرام میں ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس (TMC) نے الزام لگایا ہے کہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور ان کی اہلیہ، ایم ایل اے کلپنا سورین کے ہیلی کاپٹر کو جھاڑ گرام میں لینڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ ٹی ایم سی کے مطابق، جس وقت وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر پہنچنا تھا، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی وہاں موجود تھے اور ان کے پروگرام کا وقت بڑھا دیے جانے کی وجہ سے ہیمنت سورین کو فضا میں ہی انتظار کرنا پڑا اور آخر کار انہیں بغیر لینڈ کیے رانچی واپس لوٹنا پڑا۔
ٹی ایم سی کا شدید ردعمل اور ‘امتیازی سلوک ‘ کا الزام
ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس ‘ پر اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے وزیر اعظم مودی کی ‘آدیواسی مخالف ذہنیت ‘ قرار دیا ہے۔ ٹی ایم سی نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں رہنما جمہوری طور پر منتخب ہو کر آئے ہیں، اس کے باوجود ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو گھنٹوں انتظار کروانا اور لینڈنگ کی اجازت نہ دینا جمہوری حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پارٹی نے اسے آدیواسی لیڈروں کے ساتھ صریح امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔
سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ
ٹی ایم سی نے وزیر اعظم پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھاڑ گرام آدیواسی ووٹ حاصل کرنے کے لیے آئے تھے، لیکن انہوں نے انہی کے لیڈروں کی تذلیل کر کے آدیواسی عوام کی توہین کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم مودی نے جھاڑ گرام میں چار عوامی جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ دورے کے دوران ان کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ایک مقامی دکان پر مشہور اسٹریٹ فوڈ ‘جھال مڑی ‘ کا لطف لیتے نظر آئے تھے۔ تاہم، ہیمنت سورین کے ہیلی کاپٹر کو اجازت نہ ملنے کے واقعے نے اب اس دورے کو ایک نئی سیاسی بحث میں تبدیل کر دیا ہے۔
