مردم شماری اور حلقہ بندی کا عمل جلد ہوگا مکمل: سنجے سیٹھ
جدید بھارت نیوز سروس
پلاموں،21؍اپریل: مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آدھی آبادی کو ان کا حق دے کر رہیں گے۔ نریندر مودی کی حکومت نے ہر وعدہ پورا کیا ہے، اس وعدے کو بھی پورا کریں گے۔ دراصل، سنجے سیٹھ منگل کو پلاموں کے دورے پر تھے اور انہوں نے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔
ڈی لیمیٹیشن میں لگتے ہیں 2 سال
انہوں نے کہا کہ 2023 میں خواتین کے ریزرویشن کے دوران یہ شق (کلاز) جوڑی گئی تھی کہ پہلے مردم شماری ہوگی، اس کے بعد حلقہ بندی (ڈی لیمیٹیشن) ہوگی، پھر ریزرویشن دیا جائے گا۔ سب کو معلوم ہے کہ 2026 تک ڈی لیمیٹیشن پر پابندی تھی۔ مردم شماری اور ڈی لیمیٹیشن میں 2 سال کا وقت لگے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ 2029 میں کسی بھی قیمت پر بیٹیوں کو ان کا حق دینے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔
پد یاترا میں بڑی تعداد میں خواتین شرکت کریں گی
مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے کہا کہ 25 اپریل کو جھارکھنڈ میں خواتین اپنی طاقت دکھائیں گی اور رانچی میں ایک جگہ جمع ہوں گی۔ اس پد یاترا میں بڑی تعداد میں خواتین شرکت کریں گی۔ پارلیمنٹ سے ایکٹ پاس نہ ہونے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل سے وہ لوگ خوفزدہ تھے جو خاندان پرستی کی سیاست کرتے ہیں۔ بل گرنے کے بعد ایسے لوگوں نے جشن بھی منایا۔لوک سبھا سے لے کر ہر جگہ خواتین کی شرکت بڑھنے والی تھی، لیکن خاندان پرستی والوں کو ڈر تھا کہ ان کے بچوں کا کیا ہوگا؟ انہیں ڈر تھا کہ اقتدار ان کے خاندان سے نکل کر دوسری خواتین کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثریت کا ہندسہ پیچھے چھوٹ گیا۔ یہ کوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایجنڈا نہیں تھا بلکہ اس سے ملک کا فائدہ ہوتا اور ملک کی آدھی آبادی کو فائدہ پہنچتا۔بل پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کے لوگوں نے ’آپریشن سندور‘ سے لے کر کئی باتوں کا مذاق اڑایا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی ایم ایل اے ڈاکٹر ششی بھوشن مہتا، آلوک چورسیا، میئر ارونا شنکر، ضلع صدر امیت تیواری سمیت کئی لوگ موجود تھے۔
