ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے: امریکہ
اسلام آباد، 16 اپریل (یو این آئی) پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی بات چیت آج دوبارہ ہوگی۔ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بریک تھرو کا امکان ہے، الجزیرہ ٹی وی کے مطابق پاکستانی وفد ایران حکام سے ایٹمی پروگرام پر بات کر رہا ہے، فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کا وفد ایران میں موجود ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب اور فیلڈ مارشل تہران میں موجود ہیں، پاکستان کا اعلیٰ سطح وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں گزشتہ رات تہران پہنچا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایئرپورٹ پر گرم جوش استقبال کیا، اعلیٰ سطح پاکستانی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں، آئی ایس پی آر کا کہنا ہے فیلڈ مارشل کا دورہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ فریقین کو پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں متوقع ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کہتے ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہنے پر خوشی ہوئی، پاکستان کی شان دار میزبانی گہرے اور عظیم دو طرفہ تعلقات کی عکاسی ہے، خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط اور مشترکہ ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستانی وفد کا دورہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ کا تسلسل ہے، پاکستان تنہا ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اسلام آباد مذاکرات کے بعد سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران اور امریکا میں پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اب مذاکرات مکمل جنگ بندی کے لیےہوں گے۔ انھوں نے کہا مذاکرات میں ایران سے پابندیاں ہٹانے پر بھی بات ہوگی، یورنیم افزودگی کی سطح پر بات کرنے کو تیار ہیں، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں دل چسپی نہیں رکھتا، ایران آبنائے ہرمز کا پاسبان اور نگہبان ہے، خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں، جنگ کے بعد پڑوسی ملکوں کی مدد سے آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنائیں گے اور ایران لبنان کی حمایت سے دست بردار نہیں ہوگا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے، مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، پاکستانی مذاکرات میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے، صدر ٹرمپ مذاکرات میں پاکستان کا کردار جاری دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہم جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان واحد اور بہترین ثالث ہے۔وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز اور جاری ہیں، جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد بہترین ثالث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے سیزفائر میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں کی۔ صدرٹرمپ مذاکرات میں پاکستان کا کردار جاری دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی ہورہا ہے۔ کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ صدرٹرمپ نے چینی صدر کو خط لکھ کر ایران کو ہتھیار نہ دینے کا معاملہ اٹھایا تھا جس کے جواب میں چینی صدر نے بتایا کہ وہ ایران کو اسلحہ نہیں دے رہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی کوششیں مزید تیز ہوگئی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں بات چیت کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہونے کا امکان ہے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خزانہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی پر قائم ہیں اور یہ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے ایک ہفتے بعد تیل کی ترسیل معمول پر آجائے گی اور خلیجی ممالک نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلتے ہی تیل کے جہاز روانہ کر دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے تیل کا 90 فیصد چین کو فروخت کرتا ہے دو چینی بینکوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو ایرانی ٹرانزکشن میں ملوث ہیں ہم نے خبردار کیا ہے ایرانی ٹرانزکشن ثابت ہوئیں تو نئی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
