ہومInternationalایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ

ایرانی تیل مہنگا فروخت ہونے لگا، 4 کروڑ بیرل تیل ایکسپورٹ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تہران، یکم جولائی (یو این آئی) امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد ایران نے 4 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے 20 فی صد زیادہ قیمت پر تیل فروخت کیا۔ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کو کہا ایران نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد اس نے چار کروڑ بیرل سے زائد خام تیل برآمد کیا اور اب وہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اپنا تیل تقریباً 20 فی صد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔امریکہ اور ایران نے 17 جون کو ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تقریباً 4 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکرات پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اس وقت مختصر جھڑپیں بھی ہوئیں جب ایران نے گزرنے والے دو بحری جہازوں پر حملہ کیا۔امریکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں تنازع کے دوران بحری آمدورفت تقریباً معطل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔محمد باقر قالیباف نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر نشر کیے گئے ٹی وی انٹرویو میں کہا ’’جس دن سے بحری ناکہ بندی ختم ہوئی، اس دن سے اب تک ہم چار کروڑ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کر چکے ہیں۔ معاہدے سے قبل تقریباً 2 ماہ کی ناکہ بندی کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی برآمد نہیں کر سکا تھا۔‘‘ آئل ٹینکرز کی نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام نے بدھ کو اندازہ ظاہر کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی توانائی برآمدات پر بحری ناکہ بندی ختم کیے جانے کے بعد گزشتہ 2 ہفتوں میں ایران تقریباً 5 کروڑ بیرل خام تیل برآمد کر چکا ہے۔واضح رہے یہ کمپنی سیٹلائٹ تصاویر، ساحلی فوٹوگرافی اور ریئل ٹائم خودکار شناختی نظام (AIS) کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 73 ڈالر فی بیرل رہی، جو اپریل میں جنگ کے دوران ریکارڈ 118 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے تقریباً 40 فی صد کم ہے۔سفارتی پیش رفت اور خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی میں اضافے کی توقعات کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ یوریشیا گروپ کے سینئر تجزیہ کار گریگوری بریو کے مطابق، جنگ سے قبل ایرانی خام تیل پابندیوں کے خطرات کے باعث برینٹ کے مقابلے میں 10 سے 15 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر فروخت کیا جاتا تھا۔ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 دن تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کوئی ٹول ٹیکس وصول نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ آبی گزرگاہ کے انتظامی اختیارات اس کے پاس ہی رہیں گے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا ’’آبنائے ہرمز کی خودمختاری ایران اور عمان کے پاس ہے اور اس میں آمدورفت ایران کے طے کردہ انتظامات کے مطابق ہوگی۔ ایران کسی بھی صورت میں آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق سے دست بردار نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہماری علاقائی سمندری حدود ہیں۔‘‘تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کا انتظام کس طریقہ کار کے تحت ہوگا۔ اس دوران بحری جہاز یا تو عمان کے ساحل کے ساتھ جنوبی راہداری استعمال کر رہے ہیں یا پھر ایران کے زیر انتظام شمالی راستوں سے گزر رہے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.