ہومInternationalمیانمار میں چین کی وا پسی۔ من آنگ ہلائنگ کے دور میں...

میانمار میں چین کی وا پسی۔ من آنگ ہلائنگ کے دور میں بیجنگ کا اثر و رسوخ تیزی سے بڑھنے لگا

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

نیپیداو( میانمار)۔20؍ اپریل۔ ایم این این۔ میانمار میں فوجی حکمران من آنگ ہلائنگکے اقتدار کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہی چین نے ایک بار پھر ملک میں اپنے اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر بڑھانا شروع کر دیا ہے، جسے ماہرین “واپسی بھرپور انداز میں” قرار دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2021 کی فوجی بغاوت اور اس کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں میانمار عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک سطح پر اپنی موجودگی مزید مستحکم کی۔ بیجنگ نے نہ صرف نئی فوجی قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے بلکہ صدرژی جن پنگ کی جانب سے من آنگ ہلائنگ کو مبارکباد دینا بھی اس تعلق کی اہم علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیے کے مطابق چین کے لیے میانمار کی جغرافیائی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، کیونکہ یہ اسے براہِ راست بحیرۂ ہند تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے بیجنگ اپنی توانائی سپلائی اور برآمدات کے لیے متبادل راستے حاصل کر سکتا ہے اور جنوبی بحیرہ چین اور آبنائے ملاکا پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ مزید برآں، چین-میانمار اقتصادی راہداری (CMEC) اور کیاکفیو بندرگاہ جیسے منصوبے بیجنگ کی طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے وہ خطے میں اپنے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ منظم اور “سوفیسٹیکیٹڈ” انداز میں اپنا اثر قائم کر رہا ہے، جس میں نہ صرف اقتصادی سرمایہ کاری بلکہ سکیورٹی اور سیاسی معاملات میں بھی کردار شامل ہے۔ مزید یہ کہ چین نے بعض مواقع پر میانمار کے اندر جاری لڑائیوں پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی، جہاں اس نے سرحدی علاقوں میں سرگرم مزاحمتی گروہوں پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کی کوششیں کروائیں تاکہ اپنے تجارتی مفادات کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ چین کی یہ واپسی میانمار کی فوجی حکومت کے لیے سہارا بن رہی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی عدم استحکام اور عوامی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کی قیمت بالآخر عام شہریوں کو ادا کرنا پڑے گی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.