ہومInternationalچین پر تبتی بچوں کی شناخت مٹانے کی مہم کا الزام۔ عالمی...

چین پر تبتی بچوں کی شناخت مٹانے کی مہم کا الزام۔ عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

بیجنگ۔11؍ مئی۔ ایم این این۔ چین کی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ تبت میں تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے تبتی بچوں کی زبان، ثقافت اور مذہبی شناخت کو کمزور کرنے کی ایک منظم مہم چلا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات محض تعلیمی اصلاحات نہیں بلکہ ایک وسیع تر ثقافتی ہم آہنگی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے دور رس اثرات تبتی معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی جریدے جرنل آف ڈیموکریسیمیں شائع ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے تبت میں ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس کے تحت بڑی تعداد میں تبتی بچوں کو ریاستی بورڈنگ اسکولوں میں رکھا جا رہا ہے، جہاں انہیں اپنی مادری زبان اور روایتی ثقافتی ماحول سے دور کر کے مینڈرن زبان اور سرکاری نظریات کے تحت تعلیم دی جاتی ہے۔ مضمون کے مطابق اس عمل کا مقصد نئی نسل کی شناخت کو بیجنگ کے قومی بیانیے کے مطابق ڈھالنا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تبت میں پری اسکول اور ابتدائی تعلیم کے نظام میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جن سے تبتی زبان کے استعمال میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق بچوں کو کم عمری میں گھر اور خاندان سے دور رکھنے سے زبان، مذہبی روایات اور ثقافتی اقدار کی نسل در نسل منتقلی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق تبت میں تعلیم اب صرف نصابی سرگرمی نہیں رہی بلکہ قومی یکسانیت کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ بن چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بچوں کو اپنی زبان اور ثقافتی ورثے سے دور کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشرے کی اجتماعی شناخت پر مرتب ہوتے ہیں۔چین نے اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہمیشہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تبت میں تعلیمی اور ترقیاتی اقدامات کا مقصد بچوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا اور انہیں قومی معیشت سے جوڑنا ہے۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ مینڈرن زبان میں مہارت سے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے امکانات بڑھتے ہیں۔تاہم بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ثقافتی تحفظ کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق بچوں کو جدید تعلیم فراہم کرتے ہوئے بھی مادری زبان، مذہبی روایات اور مقامی شناخت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق تبت کا مسئلہ ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو اجاگر کر رہا ہے کہ ریاستی یکسانیت اور ثقافتی تنوع کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ تبتی بچوں کی تعلیم سے متعلق جاری بحث نے دنیا بھر میں اس موضوع پر توجہ مرکوز کر دی ہے کہ زبان اور ثقافت کا تحفظ محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ کسی بھی قوم کے مستقبل کی بنیاد ہوتا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.