تہران، 20 اپریل (یو این آئی) ایرانی اسپیکرِ اسمبلی محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے مگر ممکنہ نئی کشیدگی کے پیشِ نظر “ضروری اقدامات” کرنے کے لیے تیار بھی ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ،قالیباف نے ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ “ہم دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے۔ کسی بھی لمحے وہ جنگ بندی کو بگاڑ سکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ “ہم مذاکرات کر رہے ہیں، مگر ہم ضروری اقدامات کے لیےبھی تیار ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ برس جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے سبق سیکھا ہے اور مستقبل میں کسی بھی مقابلے کے لیے تیار ہے۔قالیباف نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تصادم مذاکراتی عمل کے دوران “امریکی دھوکہ بازی ” کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ بیان اس کے بعد آیا جب امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ امریکی بحری افواج نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو “روکتے ہوئے غیر فعال کر دیا”۔سینٹ کوم کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں آپریشن کرنے والی امریکی افواج نے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز جو کہ ایرانی بندر گاہ کی جانب جانے کی کوشش میں تھا کے خلاف بحری محاصرے کے تحت کارروائی کی۔ایران کے خاتم الانبیا فوجی ہیڈکوارٹرز نے بھی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے شائع کیے گئے ایک بیان میں امریکی فوج کی جانب سے ایک جہاز پر کیے گئے حملے کی تصدیق کی ہے۔ تہران نے ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کی جبری ضبطی کے بعد جسے وہ “بحری قزاقی” قرار دے رہا ہے، جلد ہی جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔فوجی ہیڈکوارٹر کا کہنا ہے کہ”جارح امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کا ارتکاب کرتے ہوئے بحر عمان کے پانیوں میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر فائر کر کے اسے نشانہ بنایا اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو غیر فعال کر دیا۔ ایرانی صدر کے نائبِ اول محمدرضا عارف نے بھی خبردار کیا کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات محدود رہیں تو ہرمز کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔عارف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ”کوئی بھی ایران کی تیل برآمدات کو محدود نہیں کر سکتا اور ایسا ہونے کی صورت میں ہرمز میں سیکیورٹی کی توقع نہ کی جائے۔” عارف نے کہا کہ دنیا کے سامنے انتخاب موجود ہے :”سب کے لیے آزاد پیٹرول کی منڈی ’’ یا ‘‘ہر کسی کے لیے بلند لاگت۔’’ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام ‘‘ایران اور اس کے حلیفوں کے خلاف معاشی اور عسکری دباؤ کے ایک یقینی اور دیرپا خاتمے’’ پر منحصر ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک میں امریکی اثاثوں کی موجودگی والے مقامات پر جوابی حملے کیے۔جنگ 8 اپریل سے تعطل کا شکار ہے، جب پاکستان نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی۔ امریکہ اور ایران نے اس ماہ کے اوائل میں پاکستان میں ایک پائیدار امن کے لیے بات چیت کی اور اسلام آباد میں مزید ایک دورکے انتظامات جاری ہیں۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران ‘ضروری اقدامات،کے لیے تیار:ایرانی اسپیکر
مقالات ذات صلة
