70 کروڑ روپے کی اسکیم کا خود معائنہ کرنے کا حکم، 24 جولائی تک رپورٹ طلب
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 30 جون:۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے صاحب گنج کی تقریباً 70 کروڑ روپے مالیت کی پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق عوامی مفاد کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس ایم۔ ایس۔ سونک اور جسٹس راجیش شنکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے محکمہ پینے کا پانی و صفائی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کو خود صاحب گنج جا کر منصوبے کا معائنہ کرنے اور 24 جولائی تک تفصیلی تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
حکومت اور عرضی گزار کے دعوے متضاد
عدالت نے واضح کیا کہ یہ ذمہ داری کسی دوسرے افسر کو نہیں سونپی جا سکتی۔ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ 10 مارچ 2026 کے عدالتی حکم کے بعد پائپ لائن کے ذریعے پانی سپلائی اسکیم کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اضافی 45 دنوں کے اندر پائپ لائن میں رساؤ کی خامیوں کو بھی دور کر دیا گیا ہے۔ تاہم عرضی گزار نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں صاحب گنج میونسپل کونسل کے 28 میں سے 21 وارڈ کونسلروں کے بیانات پیش کیے، جن میں منصوبے کو نامکمل قرار دیا گیا ہے۔
مشترکہ معائنہ کے بعد اگلی سماعت
عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت اس منصوبے پر تقریباً 70 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ عوامی سرمایہ خرچ کر چکی ہے، اس لیے انتظامی غفلت یا نااہلی کے باعث عوام کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ڈویژن بنچ نے ایڈیشنل چیف سکریٹری کو انجینئر اِن چیف، میونسپل کونسل کی چیئرپرسن اور ضرورت پڑنے پر دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مشترکہ معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے عرضی گزار کے نمائندے کو بھی معائنہ کے دوران موجود رہنے کی اجازت دینے کا حکم دیا۔ معاملے کی آئندہ سماعت 30 جولائی 2026 کو ہوگی۔
