پیس بورڈ نے غزہ میں انسانی امداد کے مراکز کے لیے پائلٹ پروجیکٹ کا کیا آغاز
غزہ، یکم جولائی (یو این آئی) ایک اسرائیلی اخبار نے لکھا ہے کہ امن بورڈ نے غزہ کے علاقوں میں انسانی پناہ گاہوں کے مراکز کے انتظام کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کر دیا ہے ۔اسرائیل ہیوم نے رپورٹ کیا ہے کہ رفح کے جوار میں طل الاسلطان کا علاقہ ، ان شہریوں کے لیے پہلی منزل ہوگا جنہیں منتقل کیا جائے گا، “خاص طور پر وہ جن کا حماس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔” اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایک کثیرالاقوامی فورس جسے بین الاقوامی استحکام فورس کہا جاتا ہے، بورڈ کی قیادت میں، اس علاقے میں تعینات کی جائے گی۔اخبار نے مزید کہا کہ یہ فورس غزہ کے قریب اسرائیلی امیتائی کیمپ میں تعینات رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق، اس فورس کو غیر مہلک ہتھیاروں سے لیس کیا جانے کا امکان ہے تاکہ انسانی علاقوں کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے، جبکہ اسرائیلی فوج ‘یلو لائن کے پار علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھانے اور مستحکم کرنے کا عمل جاری رکھے گی۔اخبار کے مطابق، بورڈ آف پیس کے حکام نے عندیہ دیا ہےکہ ان علاقوں میں تعمیر نو کے لیے کنکریٹ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بجائے موبائل رہائشی یونٹس یا کاراوان نصب کیے جائیں گے، اور رہائشیوں کے لیے طبی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ منصوبہ اسرائیلی فوج کو غزہ کے علاقے پر اپنا کنٹرول مزید پھیلانے کے قابل بنا دے گا۔ باور رہے کہ 16جنوری کو وائٹ ہاؤس نے غزہ کے لیے عبوری حکومتی ڈھانچہ اپنانے کا اعلان کیا تھا، جن میں بورڈ آف پیس، غزہ ایگزیکٹو کونسل، نیشنل کمیٹی برائے غزہ ایڈمنسٹریشن، ایک ٹیکنوکریٹک حکومت، اور بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہیں۔ یہ اقدام ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھا، جس کی حمایت 17 نومبر 2025 کو قبول کردہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل قرار داد نمبر 2803 سے کی گئی تھی ۔
