ایک ڈیجیٹل شناخت سے ملے گا اسکیموں کا براہ راست فائدہ
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ: بہار حکومت کے محکمہ زراعت اور محکمہ محصولات و اراضی اصلاحات کی مشترکہ کوششوں سے ریاست میں کسانوں کی ڈیجیٹل شناخت کو یقینی بنانے کے لیے فارمر رجسٹری کی خصوصی مہم شروع کی جا رہی ہے جس کا اعلان صوبائی وزیر زراعت وجے کمار سنہا نے کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مہم 12 مئی 2026 سے 30 جون 2026 تک خصوصی طور پر چلائی جائے گی جس کا باضابطہ آغاز میٹھاپور کے زرعی بھون سے پٹنہ ضلع کے پھلواری شریف بلاک کے کسانوں کی فارمر آئی ڈی بنانے کے ساتھ ہوگا۔ وزیر زراعت نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل مختلف مراحل میں اب تک مجموعی طور پر 47 لاکھ 85 ہزار 878 کسانوں کی فارمر آئی ڈی تیار کی جا چکی ہے اور یہ نیا اقدام کسانوں کو ٹیکنالوجی سے جوڑنے اور سرکاری اسکیموں میں شفافیت لانے کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔
وزیر موصوف نے واضح کیا کہ فارمر رجسٹری کے ذریعے ہر کسان کو ایک مخصوص آئی ڈی فراہم کی جا رہی ہے جس سے نہ صرف پی ایم کسان سمان ندھی جیسی اسکیموں کا فائدہ یقینی ہوگا بلکہ فصل بیمہ، کے سی سی اور دیگر امدادی گرانٹ حاصل کرنے کا عمل بھی انتہائی سادہ ہو جائے گا۔ رجسٹریشن کے لیے کسانوں کو صرف اپنا موبائل نمبر اور اپنے نام درج جمع بندی کی معلومات فراہم کرنی ہوں گی جبکہ کسان خود بہار فارمر رجسٹری پورٹل یا کیو آر کوڈ اسکین کر کے اپنا اندراج کر سکتے ہیں یا پھر قریبی سی ایس سی سینٹر اور پنچایت کے زرعی کوآرڈینیٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل شناخت بن جانے کے بعد کسانوں کو بار بار دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور فصل کے نقصان کی صورت میں امدادی رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں پہنچ جائے گی۔ وزیر زراعت نے تمام کسانوں سے اس مہم میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے اور کسی بھی مدد کے لیے محکمہ زراعت اور محکمہ محصولات کے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کیے ہیں جبکہ اس اہم اجلاس میں محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری نرمدیشور لال اور ڈائریکٹر زراعت سوربھ سمن یادو سمیت دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
