ہوم Jharkhand 10 سالوں میں 89 پیپر لیک، نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر:کانگریس

10 سالوں میں 89 پیپر لیک، نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر:کانگریس

0
Facebook Messenger Twitter WhatsApp

پیپر لیک اور بڑھتی بے روزگاری پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 23 جون :۔ جھارکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام منگل کے روز رانچی میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر میڈیا چیئرمین ستیش پال منجنی، لال کشور ناتھ شاہدیو، ڈاکٹر توصیف اور ترجمان سونال شانتی نے مرکز کی مودی حکومت کو پیپر لیک، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تعلیمی نظام کی خستہ حالی کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔کانگریس رہنماؤں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2014 سے 2024 کے درمیان ملک بھر میں تقریباً 89 پیپر لیک کے واقعات ہوئے، جس کے باعث 48 بار امتحانات دوبارہ کروانے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ایگزامینیشن ایکٹ 2024 میں سخت قوانین کے باوجود بدعنوانی کا سلسلہ نہیں رک رہا۔ نیٹ ، یو پی پولیس کانسٹیبل بھرتی 2024 اور یو جی سی نیٹ 2024 جیسی بڑی امتحانات میں بے قاعدگیوں نے کروڑوں طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ مرکز کے مختلف محکموں میں 1 مارچ 2023 تک 64.9 لاکھ سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، مگر حکومت بھرتیوں میں سنجیدہ نہیں ہے۔ کانگریس نے 15 سے 29 سال کے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کو ملک کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیا۔پریس کانفرنس میں کوچنگ ہب (کوٹا، تریسور اور چنئی) میں طلباء کی خودکشی کے واقعات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور روزگار کی غیر یقینی صورتحال طلباء کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ کانگریس کمیٹی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے تعلیمی بجٹ میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ٹھوس پالیسی بنانے پر زور دیا ہے۔

Exit mobile version