کسانوں کو کم پانی والی فصلوں کا مشورہ: شیوراج
نئی دہلی، 23 جون (یو این آئی) زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ال نینو کے اثرات کی وجہ سے مانسون کی رفتار متاثر ہوئی ہے اور ملک میں اب تک معمول سے 43 فیصد کم بارش ہوئی ہے اور دو جولائی تک کی معلومات کے مطابق آگے بھی مانسون کے کمزور رہنے کا امکان ہے۔ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔مسٹر چوہان منگل کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ریاستوں کے وزرائے زراعت، سینئر افسران اور ممکنہ طور پر متاثرہ اضلاع کے ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل میٹنگ کی گئی اور انہیں ضروری ہدایات دی گئیں۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک کے 315 اضلاع کو کمزور مانسون سے متاثر ہونے والے اضلاع کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ حکومت نے ان اضلاع کو ان کے آبپاشی کے نظام کی بنیاد پر ترجیحات میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں خصوصی ترجیح والے 111 اضلاع ہیں۔ یہ ایسے حساس اضلاع ہیں، جہاں آبپاشی کا نظام صرف 25 فیصد رقبے پر ہی دستیاب ہے۔ حکومت کی پوری توجہ سب سے پہلے انہی اضلاع پر ہے۔ اس کے بعد درمیانی ترجیح والے اضلاع کی تعداد 76 ہے۔ ان اضلاع میں صرف 25 سے 50 فیصد رقبے پر آبپاشی کی سہولت ہے جبکہ کم ترجیح والے اضلاع 128 ہیں۔ ان میں آبپاشی کا بہتر نظام موجود ہے، اس لیے انہیں کم خطرے والے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ وزیر زراعت نے تمام متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو مقامی سطح پر تیار کردہ ہنگامی منصوبوں کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی حالت میں کسانوں کے کھیت خالی نہ رہنے پائیں۔انہوں نے کسانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد بازی میں بوائی نہ کریں، بلکہ کھیتوں میں مناسب نمی اور کم از کم 75 سے 100 ملی میٹر بارش ہونے کے بعد ہی بوائی کا کام شروع کریں۔ اس کے علاوہ کم پانی میں اگنے والی، کم مدت کی فصلوں اور موٹے اناج اور دالوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے کہا گیا۔ مسٹر چوہان نے کسانوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ملک میں کھاد اور بیج کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ملک میں بیجوں اور کھادوں کا کافی ذخیرہ دستیاب ہے، جس سے کسانوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ ال نینو کی وجہ سے مانسون پر آنے والے بحران سے نمٹنے کے لیے ضلع انتظامیہ کو اہم کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تمام ریاستوں کو اپنے ہاں کنٹرول روم بنانے اور نوڈل افسران مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وہ مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔کسانوں تک موسم کی درست معلومات اور سائنسی مشورے پہنچانے کے لیے کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور دیہی موسمیاتی یونٹوں کو فعال کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، چارے کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مویشیوں کے چارے کے انتظام اور ذخیرہ کرنے پر بھی خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر نے ریاستوں کو فصل بیمہ اسکیم کا دائرہ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ کسانوں کے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) بنوانے کی ہدایت دی ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر کسانوں کو فوری طور پر مالی قرض یا معاوضہ مل سکے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ راحت کی بات یہ ہے کہ ملک میں اب تک ایک کروڑ 19 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر رقبے پر بوائی ہو چکی ہے، جو پچھلے سال کی اسی مدت (1 کروڑ 17 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر) سے زیادہ ہے۔ خاص طور پر دھان (چاول) کا بوائی کا رقبہ پچھلے سال کے مقابلے بہتر چل رہا ہے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں بنیادی طور پر سویا بین کی بوائی کے تعلق سے تشویش کا اظہار کیا۔ مرکزی وزیر زراعت نے ہم وطنوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ کمزور مانسون کے خدشات کے باوجود ملک کا غذائی تحفظ پوری طرح مضبوط ہے۔ حکومت کے پاس کافی ذخیرہ ہے اور کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے پوری تیاری کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں، بلکہ موسم کی پیشگوئی اور سائنسدانوں کے مشورے کے مطابق ہی کاشتکاری کے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور مانسون کے خدشات کے باوجود ملک کا غذائی تحفظ مضبوط ہے۔ کافی ذخیرہ اور بہتر تیاری کی وجہ سے کسی بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے منڈی اور خردہ قیمتوں کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے سختی برتنے کو کہا گیا ہے۔
مسٹر چوہان نے بتایا کہ مرکز، ریاست، ضلع اور گاؤں کی سطح پر تال میل کے لیے ملٹی لیئر سسٹم بنایا گیا ہے۔ ’ال نینو مانیٹرنگ سیل‘ اور ’کراپ ویدر واچ گروپ‘ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر چوہان نے پانی کے تحفظ کو سب سے اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے تالاب، چیک ڈیم، کھیت-تالاب جیسی ساختوں کو مضبوط کرنے اور منریگا کے تحت پانی سے متعلق کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پینے کے پانی کو ترجیح دینے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں حکومت پہلے سے تیاری کر رہی ہے اور تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ گھبرائیں نہیں، بلکہ سائنسی مشورے کے مطابق تیاری کریں اور اس چیلنج کو موقع میں تبدیل کریں۔










Users Today : 441
Users Yesterday : 494
Users Last 7 days : 2679
Users Last 30 days : 5547
Users This Month : 5533
Users This Year : 5547
Total Users : 4567090