Urdu Newspaper, Epaper, published from Ranchi Jharkhand, Jadeed Bharat

جديد بهارت

Jadeed Bharat

No. 1 Urdu Daily Newspaper of Jharkhand


  • یمن: ہیضے کی وبا 2000 زندگیاں نگل چکی ہے

    یمن: ہیضے کی وبا 2000 زندگیاں نگل چکی ہے

    صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں  چار ماہ قبل شروع ہونےو الی ہیضے کی وباسے اب تک پانچ لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ  1975 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹے ہیں ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں  ہر روز  پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کے پانچ ہزار کیسز دیکھنے میں آ رہے ہیں ۔ جو اسہال اور پانی کی کمی کا باعث بن رہے ہیں ۔   دو سال سے جاری جنگ زدہ  ملک میں صحت کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ۔ ’’ ہیضے کی یہ وبا  کچھ علاقوں میں نسبتا کم ہو گئی ہے لیکن وہ علاقے جہاں ابھی اس وبا ء کا آغاز ہو اہے وہاں یہ تیزی سے پھیل رہی ہے  اور لوگوں کی بڑی تعداد  ا س سے متاثر ہو رہی ہے ۔‘‘ جو کہ اعداد و شمار کے مطابق 503484 ہو چکی ہے۔ انسانی فضلے سے آلودہ پانی پینے یا خواراک کھانے سے پھلینے والی اس بیماری کا اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ چند گھنٹوں میں جان لے سکتی ہے۔  ترقی یافتہ ممالک میں سینی ٹیشن سسٹم کو بہتر بنا کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا چکاہے۔ سعودیہ کی  سربراہی میں اتحادی فوج اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان جاری خانہ جنگی سے  یمن کی معیشت تباہ ہو گئی ہے ، جس نے ہیضے اور قحط جیسی آفات سے نمٹنا نا ممکن بنا دیا ہے۔  ڈبلیو ایچ او  کا کہنا ہے کہ لاکھوں یمنی شہریوں کو صاف پانی کی ترسیل اور کئی علاقوں میں  فضلے کی صفائی  رکی ہوئی ہے۔  جبکہ اہم ادوایات بھی میسر نہیں ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او  اوراس کے پارٹنرز ہیضے کے علاج کے لئے کلینک کھولنے ، علاج گاہوں کی بحالی اور میڈیکل  ترسیلات   فراہم کرنے کے لئے دن رات کام کر رہا ہے۔ علاج گاہ تک پہنچنے والے ننانوے فیصد افراد کے بچنے کی امید ہوتی ہے لیکن بچے اور بوڑھوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہیں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کا کہنا ہے کہ  یہ کوششیں موثر ثابت ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ، ہیضے سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں  متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  • سیرالیون: مٹی کا تودہ گرنے سے 300 افراد ہلاک

    سیرالیون: مٹی کا تودہ گرنے سے 300 افراد ہلاک

    ریڈ کراس کے ترجمان ابو بکر تراوالی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملبے میں اب بھی کئی افراد دبے ہوسکتے ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  • گوام کو خطرہ، اعلیٰ امریکی جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے

    گوام کو خطرہ، اعلیٰ امریکی جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے

    واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان غیر معمولی  خطرات کی صورت حال میں  امریکہ کے اعلیٰ ترین جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب سے گوام میں امریکی علاقے پر حملے کی دھمکی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔   صدر کا کہنا تھا کہ اگر گوام میں کچھ ہوتا ہے تو شمالی کوریا میں بہت بڑی مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔  کوریا کے سفر کے دوران امریکی جنرل جو ڈنفرڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی فوج کی بنیادی توجہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق انتظامیہ کی سفارتی اور اقتصادی مہم کی مدد کرنا ہے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ حملے کے منصوبے بھی تیار کر رہے ہیں ۔   ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی راہنما کے طور پرمجھے یہ یقینی بنانا ہے کہ سفارتی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مہم کی ناکامی کی صورت میں صدر کے پاس قابل عمل فوجی ترجيحات موجود ہوں ۔ اوسان ایئر بیس پر آمد کے بعد جنرل ڈنفرڈ نے وقت ضائع کیے بغیر خطے کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ ترین کمانڈروں سے ملاقات کی ۔ شمالی کوریا نے اس سال میزائل کے کئی تجربوں کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ پیانگ یانگ اب کہتا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسا جوہری میزائل ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار بروس بینٹ نے اسکائپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ پر کوئی حملہ کرنے والا ہوا، تو میرا خیال ہے کہ امریکی صدر فوری طور پر تھیٹر کمانڈرسےشمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں سے چھٹکارے کا مطالبہ کریں گے۔ پیر کے روز سول میں فوج اور سیاسی راہنماؤں سے گفتگو کے بعد ڈنفرڈ چین جائیں گے، جو ایک ایسا ملک ہے جسے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے سے متعلق بین الاقوامی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا گیا ہے ۔ بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے رچرڈ بش کہتے ہیں کہ شمالی کوریا چین پر کافی انحصار کرتا ہے اس لیے اگر چین چاہے تو وہ اس ملک کو ان بہت سے وسائل سے انکار کر کے جن پر شمالی کوریا انحصار کرتا ہے، اسے متاثر کر سکتا ہے ۔ چینی راہنما شمالی کوریا کے جوہری عزائم کو کچلنے کے لیے پیانگ یانگ پردباؤ ڈالنے کی غرض سے وسائل سے انکار کرنے میں تامل سے کام لیتے رہے ہیں ۔ جانز ہاپکنزیونیورسٹی کے جول وٹ کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے مدد کی اتنی توقع نہ رکھیں جتنی آپ سمجھتے ہیں کہ انہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن بیجنگ ایسی علامات ظاہر کر چکا ہے کہ وہ برے رویے کا مظاہرہ کرنے والے اپنے اس پڑوسی کے ساتھ بیزاری کا اظہار کر سکتا ہے۔ وہ پیانگ یانگ پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاز کے لئے ووٹنگ میں ایک متفقہ سلامتی کونسل کا ساتھ دے چکا ہے ۔ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز نے انتباہ کیا ہے کہ چین اس صورت میں شمالی کوریا کی مدد کے لیے نہیں آئے گا اگر وہ ایسا میزائل داغے گا جس سے امریکی سر زمین کو خطرہ لاحق ہو گا۔

  • چین  میں طوفان بادوباراں، سیکڑوں پروازیں منسوخ

    چین میں طوفان بادوباراں، سیکڑوں پروازیں منسوخ

    چین کے دارالحکومت میں ہفتے کو آنے والے طوفان بادو باراں کی وجہ سے بیجنگ   کے ہوائی اڈے پر سیکڑوں پروازوں کی آمد و رفت کا نظام معطل ہو کر رہ گیا۔ دوسری طرف حکام نے متنبہ کیا ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے ان علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ہے جہاں رواں ہفتے ریکٹر اسکیل پر 7 شدت کا زلزلہ آ چکا ہے۔ بیجنگ شہر کے حکام نے ہفتہ کو تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں 70 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے جو ممکنہ طور پر پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب آنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے حکام نے ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ آنے جانے والی پروازوں کے بارے میں ویب سائیٹ سے معلومات حاصل کریں۔ ویب سائیٹ کے مطابق چین کے مصروف ترین ہوائی اڈے پر مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سے لے کر نصف شب تک پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ 182 تاخیر کا شکار ہیں ۔ بیجنگ میں ہر سال موسم گرما کے دوران اکثر شدید بارشیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ائیر پورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے ایک بیان میں ملک کے جنوب مغربی صوبے کے علاقے جیوزاؤ گو کے علاقے میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف کارکنوں کو بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے اور آسمانی بجلی گر نے کا انتباہ کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ان بارشوں سے پہلے جمعہ کو اندرونی منگولیا میں آنے والے سمندری طوفان کی وجہ سے پانچ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے جبکہ اس کے علاوہ کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ 

  • انڈونیشیا کے جنگلات کی آگ میں مزید شدت

    انڈونیشیا کے جنگلات کی آگ میں مزید شدت

    ملک کے پانچ صوبوں ، ریاؤ، جامبی، جنوبی سماٹرا، مغربی کالیمانتان اور جنوبی  کالیمانتان کے جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے اور وہاں ہنگامی صورت حال کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

  • جنوبی بحیرہ چین میں امریکی جنگی جہازوں کا گشت، چین کا احتجاج

    جنوبی بحیرہ چین میں امریکی جنگی جہازوں کا گشت، چین کا احتجاج

    چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یو ایس ایس جون ایس مک کین نے چینی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، اور اگلے محاذ کے عملے کی حفاظت کو خطرے میں ڈالا ہے۔

  • چین: مسافر بس کے حادثے میں 36 افراد ہلاک

    چین: مسافر بس کے حادثے میں 36 افراد ہلاک

    چین کی ہائی ویز پر تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کے غیر محتاط رویے کے باعث حادثات معمول ہیں۔

  • یورپ میں انڈوں کا سکینڈل

    یورپ میں انڈوں کا سکینڈل

    یورپ کے مختلف حصوں میں متاثرہ انڈوں کی موجودگی کے انكشاف کاسلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ رومانیہ میں بھی انڈوں کی زردی میں فپرونائل اثرات پائے گئے ہیں۔

  • امریکی طیارہ گرانے کا منصوبہ، ترکی میں داعش کا شدت پسند گرفتار

    امریکی طیارہ گرانے کا منصوبہ، ترکی میں داعش کا شدت پسند گرفتار

    سکیورٹی سے وابستہ اہل کاروں کے حوالے سے، ’ڈوگن‘ نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ روسی شہری رینات بکیف کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نگرانی پر مامور پولیس نے اُسے اندانا کے جنوبی شہر میں پکڑا جہاں وہ تاک میں بیٹھا ہوا تھا، جہاں یہ اڈا واقع ہے۔



Promo Image
  • حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا

    حزب المجاہدین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا

    امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ یعنی دفترِ خارجہ نے امیگریشن اور نیشنلٹی ایکٹ کے سیکشن 219 کے تحت حزب المجاہدین کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔  اس عمل کے بعد حزب المجاہدین کے لیے وہ وسائل اکٹھے کرنا مشکل ہو جائے گا جن کے ذریعے وہ حملے کرتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں حزب المجاہدین کے تمام تر اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔ اور امریکہ میں مقیم افراد پر اس تنظیم کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی لین دین پر پابندی ہو گی۔ 1989 میں بننے والی حزب المجاہدین بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزادی کے لیے لڑنے والی سب سے پرانی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو  پہلے ہی غیر ملکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔ حزب المجاہدین نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں اپریل 2014 میں جموں اور کشمیر میں ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے حملے شامل ہیں۔ ان حملوں میں 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔

  • مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

    مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

    ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کو اس سال نومبر میں بھارت میں منعقد ہونے والی عالمی انٹرپرینر شپ کانفرنس کا انتظار ہے جس میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی بیٹی اور مشیر اوانکا ٹرمپ امریکی وفد کی قیادت کریں گی۔

  • بھارت: علاج کے خواہش مند تمام پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

    بھارت: علاج کے خواہش مند تمام پاکستانیوں کو ویزہ دینے کا اعلان

    بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سشما سوراج کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ہم ان تمام جائز ویزا درخواستوں کو منظور کرلیں گے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔

  • دھمکیاں اور پابندیاں جاری رہیں تو جوہری پروگرام شروع کردیں گے، روحانی

    دھمکیاں اور پابندیاں جاری رہیں تو جوہری پروگرام شروع کردیں گے، روحانی

    ایران اور امریکہ دونوں ہی کا یہ کہنا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

  • کشمیری سیاسی قیادت کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کا خیرمقدم

    کشمیری سیاسی قیادت کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کا خیرمقدم

    صوبائی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بھارتی وزیرِ اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو صرف پُر امن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

  • ستر سال بعد بھی یادیں بالکل تازہ ہیں

    ستر سال بعد بھی یادیں بالکل تازہ ہیں

    بزرگ صحافی رضوان اللہ کا آبائی وطن اعظم گڑھ ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کلکتہ میں صحافتی خدمات انجام دیتے ہوئے گزارا۔ وہ کئی سال تک دہلی میں واقع امریکن سینٹر میں اردو ایڈیٹر بھی رہے۔ اب وہ مستقل طور پر دہلی میں مقیم ہیں۔ 87 سالہ رضوان اللہ نے برِصغیر کی تقسیم کے وقت کے خوں چکاں واقعات بچشم خود دیکھے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگوں سے بھی ان کی ملاقاتیں رہی ہیں جو پاکستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔ رضوان اللہ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس پُر آشوب دور کی کچھ یادیں تازہ کیں۔ انھوں نے 15 اگست 1947 کے دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”اس وقت میں ریلوے میں اپرینٹس ڈرائیور تھا۔ بنارس ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں میری پوسٹنگ تھی۔ 15 اگست کے موقع پر اسٹیشنوں پر سجاوٹ کے لیے جو سامان اسٹیشنوں پر پہنچانا تھا وہ اتفاق سے ہمارے انجن کے حوالے کیا گیا۔ ڈرائیور، ان کا اسٹاف اور میں، ہم تین لوگ انجن پر سامان لے کر بنارس اسٹیشن سے روانہ ہوئے۔ بنارس سے بھٹنی تک کے اسٹیشنوں پر سامان پہنچانا تھا۔ کئی کلومیٹر کا یہ فاصلہ شام تک طے ہوا۔ سامان کیا تھا؟ ڈوری میں ترنگا بندھا ہوا تھا اور گاندھی اور نہرو کے پوسٹر تھے۔ ہم صبح دس بجے بنارس اسٹیشن سے نکلے تھے۔ بھٹنی اسٹیشن پر پہنچنے اور واپس آنے میں رات ہو گئی اور پھر گھر جا کر تھک تھکا کر سو گئے۔ لہٰذا 15 اور 16 اگست کی درمیانی شب میں کی جانے والی پنڈت نہرو کی معرکہ آرا تقریر India's Tryst With Destiny ہم نہیں سن سکے۔ اگلے روز آل انڈیا ریڈیو پر وہ تقریر پھر آرہی تھی جس کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ”اس وقت ہندوستان جاگ رہا ہے اور پوری دنیا سو رہی ہے“۔ مجھے اس جملے پر بڑی ہنسی آئی۔ کیونکہ جس وقت وہ تقریر کر رہے تھے اس وقت امریکہ میں دوپہر کا وقت تھا۔ یوروپ میں لوگ گرمیوں کی شام منا رہے تھے۔ مغربی ایشیا میں گرمی کم ہو گئی تھی اور لوگ عصر اور مغرب کے درمیان خوشیاں منا رہے تھے۔ مشرق بعید میں سورج طلوع ہونے والا تھا۔ ساری دنیا جاگ رہی تھی صرف ہندوستان سو رہا تھا۔ ہندوستان میں وہی ایک تہائی ہندوستانی جاگ رہے تھے جن کے پاس شام کو کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا اور جو بھوکے پیٹ تھے۔ یا تو وہ جاگ رہے تھے جو پارلیمنٹ میں موجود تھے“۔ رضوان اللہ 1946 کے واقعات کا ذکر تے ہیں اور بڑی تعداد میں مسلمانوں کے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے کا واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”مسلم دانشوروں، سرمایہ داروں، سیاست دانوں کا بہت بڑا سیلاب تھا جو پاکستان کی طرف رواں دواں تھا۔ اس وقت یہاں قدم ٹکانا مشکل تھا۔ لوگ بہے چلے جا رہے تھے۔ سبھی سیاست کی وجہ سے نہیں جا رہے تھے۔ بہت سے لوگ فسادات کی وجہ سے بھی جا رہے تھے۔ یہ سوچ کر جا رہے تھے کہ اب یہاں جینا مشکل ہے۔ کچھ سیاسی اثرات کی وجہ سے جا رہے تھے اور کچھ دوسروں کے زیر اثر جا رہے تھے۔ اُس وقت محکمہ ریلوے میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد تھی۔ لیکن اس محکمے سے اتنے مسلمان چلے گئے کہ یہاں اسٹاف کی کمی ہو گئی۔ اُس وقت فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ان دنوں میں بنارس میں تھا بعد کلکتہ گیا۔ بنارس میں اس وقت بہت سکون تھا، وہاں کی فضا پر فسادات کا کوئی اثر نہیں تھا۔ البتہ ہوتا یہ تھا کہ پنجاب کے پناہ گزیں جہاں آگئے وہیں لوگ مشتعل ہو جاتے تھے۔ لیکن بنارس میں نہیں ہوئے۔ وہاں بھی پناہ گزیں آئے۔ لیکن لوگوں نے ان کی مدد کی اور فسادات نہیں ہونے دیے۔ وہاں کے ڈی ایم اینگلو انڈین تھے۔ میرے خالو ان کے اسٹینو تھے اور میں خالو کے ساتھ رہتا تھا۔ ہم لوگ کینٹونمنٹ ایریا میں رہ رہے تھے۔ لہٰذا وہاں کا ماحول بہت پرسکون تھا۔ لیکن میرے اندر بے چینی بہت تھی۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ میری تعلیم منقطع ہو گئی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ میں اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ لوگ ہجرت کیوں کر رہے ہیں۔ اس کم عمری میں بھی میرا ذہن یہی کہتا تھا کہ ہجرت کرنا ٹھیک نہیں ہے“۔ رضوان اللہ انہی دنوں کلکتہ چلے گئے اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے قیامت صغریٰ دیکھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اس وقت فسادات میں بڑی تعداد میں لوگ مارے جا رہے تھے۔ سڑکوں پر بھی انسانی لاشیں پڑی رہتی تھی اور نالوں میں بھی لوگ پھینک دیتے تھے۔ عالم یہ تھا کہ بہت سے نالے لاشوں کی وجہ سے بند ہو گئے تھے۔ اس وقت کلکتہ میں تو بالکل ہی لاقانونیت اور نراج کی کیفیت تھی۔ 13 دنوں تک تو کوئی روکنے، ٹوکنے اور پوچھنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کے بعد فوج آئی تو مارشل لا نافذ ہو گیا۔ پھر تو یہ ہوا کہ لوگ جتنا سامان لوٹ کر لے گئے تھے گھروں سے نکال نکال کر سڑکوں پر پھینکنے لگے۔ ہم ایک نئی تہبند خرید کر لائے تھے ہم نے یہ سوچ کر اسے باہر پھینک دیا کہ کہیں ملٹری والے یہ نہ کہیں کہ تم اسے لوٹ کر لائے ہو۔ سڑکیں اشیا سے اٹی پڑی تھیں۔ ایک ماہ تک ٹرام چلنی بند تھی۔ حالانکہ ٹرام وہاں کی لائف لائن تھی۔ ایک ماہ کے بعد جو چلی ہے تو سڑکوں پر سامان کا انبار تھا۔ سوڈا واٹر کی بوتلیں تھیں جنھیں لوگ دکانوں سے نکال کر پھینک کر راہ گیروں کو مارتے تھے۔ سڑکوں اور گلیوں سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ ایک ماہ کے بعد جو پہلی ٹرام ہوڑہ سے سیالدہ تک چلی تو میں اس پر بیٹھ گیا اور سیالدہ تک گیا۔ پانچ چھے کلومیٹر کے اس فاصلے میں میں نے تباہی ہی تباہی دیکھی۔ سیالدہ میں۔۔ میں نے دیکھا کہ ایک سردار فیملی جا رہی تھی لوگوں نے اس کو اپنا ہدف بنا لیا اور مارکر ڈال دیا۔ اس وقت میں پھل منڈی میں تھا۔ میں خوف کی وجہ سے ایک بہت بڑی دکان میں جا کر چھپ گیا۔ لوگوں نے اس کا شٹر گرا دیا۔ کچھ دیر کے بعد فوج ٹینک لے کر آگئی۔ ٹینک ٹھیک اس دکان کے سامنے آکر رکا۔ ایک بندوق بردار جوان اترا اور دکان کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن ٹینک پر بیٹھے ہوئے کمانڈر نے کہا کہ نہیں اندر مت جاو، باہر جس کو دیکھو اس کو شوٹ کر دو۔ فوجی جوانوں نے گشت کرنا شروع کر دیا۔ جو بھی باہر نظر آتا اسے گولی مار دیتے۔ ٹینک کچھ دیر تک باہر کھڑا رہا۔ اتنی دیر تک ہم خوف و دہشت کے عالم میں ڈرائی فروٹ کی بوریوں کے نیچے چھپے رہے۔ ٹینک چلے جانے کے بعد جان میں جان آئی اور پھر ہم باہر نکلے“۔ رضوان اللہ بتاتے ہیں کہ میں نے کلکتہ میں 1947 کے فسادات دیکھے اور 1964 کے فسادات بھی دیکھے۔ دونوں بدترین فسادات تھے۔ مسلمانوں کے اجڑنے کی بڑی لمبی کہانی ہے۔ دہلی میں قیام پذیر بلند شہر اتر پردیش کے قمر الدین کے بہت سے عزیز اور رشتے دار پاکستان میں ہیں۔ آزادی کے بعد کچھ دنوں تک آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن اب جبکہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ قمر الدین جون 1986 میں کراچی گئے تھے۔ ان کی اہلیہ ان سے ڈھائی ماہ قبل ہی چلی گئی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ”میری اہلیہ کے ویزا میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جب میں نے ویزا کی درخواست دی تو پاکستانی ہائی کمیشن میں میرا انٹرویو ہوا۔ انٹرویو کرنے والے افسر نے بہت سے سوالات کیے اور کہا کہ تم پاکستان کیوں جانا چاہتے ہو۔ میں نے بتایا کہ میری بیوی ڈھائی ماہ سے وہاں ہیں میں ان کو لینے جا رہا ہوں۔ بڑی مشکل سے مجھے ویزا ملا تھا“۔ وہ اٹاری سے لے کر کراچی تک کے واقعات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”اٹاری میں انٹری آسانی سے ہوگئی۔ لیکن جب ہم اُس پار گئے تو انٹری کرنے والے افسر نے پچاس روپے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے کہا کہ کس چیز کے پیسے لے رہے ہو۔ اس نے کہا کہ پاکستان میں داخل ہو رہے ہو اس کے پیسے۔ ہم نہ دینے پر اور وہ لینے پر بضد تھا۔ بہر حال اسے پچاس روپے دیے تب اس نے انٹری کی۔ ہمارے پیچھے ایک مولانا تھے۔ ان سے بھی اس نے پیسے مانگے۔ انھوں نے دینے سے منع کر دیا اور کہا کہ ہم آپ لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ افسر نے یہ کہتے ہوئے ان کا پاسپورٹ پھینک دیا کہ دعائیں مت کیجیے پیسے دیجیے۔ بہر حال ان کو بھی پیسے دینے پڑے“۔ قمر الدین کہتے ہیں کہ ”اب جو حالات ہیں ان میں آنا جانا مشکل ہے۔ تقسیم کا زخم آج بھی بہت گہرا ہے۔ اس لکیر نے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے۔ اس کے لیے وہ سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہی لوگ اپنے رشتے داروں سے نہیں مل پاتے۔ جی تو بہت چاہتا ہے کہ وہاں سے لوگ آئیں یہاں سے لوگ جائیں۔ لیکن اب حالات بہت نازک ہو گئے ہیں۔ پاکستان جانے والے کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ اب تو ہم لوگ پاکستان میں رہنے والے اپنے عزیزوں کی خوشی میں شامل ہو پاتے ہیں نہ ہی غم میں“۔ ایک آنکھ نے بچا لیا ہمارے آبائی وطن اترپردیش سے بھی بہت سے لوگوں نے پاکستان ہجرت کی تھی۔ ہمارے دادا مرحوم نواب بخش اس وقت کے بہت سے واقعات ہم لوگوں کو بتاتے رہتے تھے۔ جب ان سے ایک بار ہم لوگوں نے پوچھا کہ آپ لوگ پاکستان کیوں نہیں گئے تو انھوں نے کہا کہ اس وقت زبردست مارکاٹ چل رہی تھی۔ لوگوں کا بہت خون بہا تھا۔ خوف کی وجہ سے ہم لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ جاتے کیسے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت لوگ پاکستان کے حق میں خوب نعرے بناتے تھے۔ تعلیم یافتہ حضرات کے نعرے الگ ہوتے تھے اور عام لوگوں کے الگ۔ انھوں نے بتایا کہ عام لوگوں میں یہ نعرہ بہت مقبول تھا ” ہاتھ میں دستی منہ میں پان، چل میرے گوئیاں پاکستان“۔ (گوئیاں مقامی زبان میں دوست کو کہتے ہیں)۔ انھوں نے بتایا کہ تقسیم کے کچھ دنوں کے بعد جب ماحول تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو پولیس ایسے لوگوں کی سرگرمی سے تلاش کرنے لگی جن کے بارے میں شبہ ہوتا کہ وہ یہاں سے پاکستان چلے گئے تھے اور پھر چوری چھپے واپس آگئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ ہمارے گاوں، لوہرسن بازار، ضلع بستی میں پیش آیا۔ ایک شخص کے گھر جن کا نام فاروق تھا، ایک رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ وہ برآمدے میں چارپائی پر آرام فرما تھے کہ دھڑدھڑاتے ہوئے پولیس والے آگئے۔ انھوں نے ان کو جکڑ لیا۔ اس سے قبل کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، پولیس والے ان کو لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ انھوں نے شور مچایا تو محلے کے لوگ اور پھر پورے گاوں کے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ لوگوں نے پولیس والوں سے پوچھا: ”ارے انہیں کیوں لے جا رہے ہو“؟۔ ”یہ پاکستان سے بھاگ کر آیا ہے، ہم لوگ بہت دنوں سے اس کی تلاش میں تھے“۔ پولیس والوں نے جواب دیا۔ گاوں والوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ لوگ جانتے تھے کہ ان کا نام تو بخش اللہ ہے، یہ تو کبھی پاکستان گئے ہی نہیں تو بھاگ کر آنے کا کیا سوال ہے۔ لوگوں نے پولیس کے بیان کی تردید کی اور احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط کام کر رہے ہیں۔ یہ تو یہیں کے ہیں پاکستان سے کیسے آئیں گے۔ پولیس والوں نے کہا: ”ہمارے پاس ان کی تصویر ہے اور ہم نے ان کو پکڑنے سے پہلے چھپ چھپ کر تصویر سے ان کا چہرہ ملایاہے“۔ لوگوں نے کہا: ”لاو ذرا ہم لوگ بھی تصویر دیکھیں“۔ گاوں والوں نے تصویر دیکھی تو ہکا بکا رہ گئے۔ بالکل ان سے ملتی جلتی تصویر تھی۔ تصویر والا شخص بھی ایک آنکھ کا نابینا تھا اور یہ بھی ایک آنکھ کے نابینا تھے۔ بس کسی کی نظر نے کام کر دیا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا: ”ارے یہ داہنی آنکھ سے نابینا ہیں اور تصویر کی بائیں آنکھ کانی ہے“۔  پولیس والوں نے بھی غور سے دیکھا اور تب ان کی سمجھ میں آیا کہ اگر چہ شباہت میں مماثلت ہے مگر یہ وہ آدمی نہیں جس کی انھیں تلاش تھی۔ پولیس والے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے وہاں سے چلے گئے اور اس طرح ایک بے قصور شخص بچ گیا۔ ورنہ اس کو جیل ہو جاتی۔ 

  • مسئلہ کشمیر نہ گولی سے حل ہوگا نہ گالی سے، مودی

    مسئلہ کشمیر نہ گولی سے حل ہوگا نہ گالی سے، مودی

    نریندر مودی نے کہا کہ ہر شخص ایک دوسرے کو گالی دینے میں مصروف ہے اور مٹھی بھر علیحدگی پسند طرح طرح کے پینترے اختیار کرتے رہتے ہیں۔

  • گلوبل وارمنگ بھارتی کشمیر کا حسن نگل رہی ہے

    گلوبل وارمنگ بھارتی کشمیر کا حسن نگل رہی ہے

    سرینگر کی شہرہ آفاق ڈل جھیل بھی اب وہ نہیں رہی جو چند دہائیاں پہلے نظر آرہی تھی۔ جہلم، سندھ، لیدر، کشن گنگا یا نیلم ، چناب اور توی جیسے بڑے دریا بھی آلودگی کا شکار ہو گئے ہیں، کئی ندی نالوں کی حالت تو ناگفتہ بہ ہو کر رہ گئی ہے-

  • گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

    گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

    سہیل انجم  قومی انسانی حقوق کمشن نے گورکھ پور کے سرکاری بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں چند روز کے اندر 60 سے زائد بچوں کی اموات پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں صحت انتظامیہ نے انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری سے چار ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی اور متاثرہ خاندانوں کی راحت کاری اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات مانگیں۔ 7 اگست کے بعد سے اب تک وہاں 63 سے زیادہ بچوں کی ا موات چکی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اموات کی وجہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی نے 65 لاکھ روپے کے بقایا کی ادائیگی کے لیے متعدد بار درخواست کی تھی۔ عدم ادائیگی کی وجہ سے اس نے آکسیجن کی فراہمی بند کر دی تھی۔ بی جے پی صدر أمت شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ طلب کرنے پر کانگریس کی مذمت کی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری ریاست میں بچو ں کی اموات پر سوگ کا ماحول ہے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر دھوم دھام کے ساتھ پیر کے روز کرشن کا یوم پیدائش یعنی کرشن جنم اشٹمی کی تقریبات کا انعقاد کرے۔ ریاستی حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو معطل کرنے کے بعد انسے فلائیٹس مرض اور بچوں کے وارڈ کے سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جب کہ گورکھ پور اور مضافات میں انہیں ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھا جا تا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے10 اگست کی رات میں وہاں تعینات نیم مسلح دستے ایس ایس بی سے اس کی گاڑی مانگی اور متعدد جوانوں کو لے کر مختلف مقامات سے اپنی جیب سے آکسیجن کے سیلنڈر اکٹھے کیے اور کئی بچوں کی جان بچائی۔ بہت سے والدین اور ایس ایس بی کے عہدے داروں نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے ہیرو ہیں۔ دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے ڈاکٹروں نے کفیل احمد کو ہٹائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں قرباني کا بکرا بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرو ں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی نے کہاکہ ڈاکٹرو ں کو مورد إلزام ٹہرا کر سیاست دان اپنی نااہلی چھپا رہے ہیں۔ ادھر ریاستی وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بچوں کی اموات کے ذمے دار ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔


  • اب وقت آگیا ہے کہ سری لنکا پاکستان کی مدد کرے: نجم سیٹھی

    اب وقت آگیا ہے کہ سری لنکا پاکستان کی مدد کرے: نجم سیٹھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ ورلڈ الیون کے دورۂ پاکستان کی کامیابی کی بنیاد پر ہی سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان آئے گی۔

  • 'مجھے اب محمد کے نام سے پکارا جائے'

    طویل ریس کے بادشاہ کہے جانے والے برطانوی ایتھلیٹ سر مو فرح نے کہا ہے اب انھیں 'محمد' کے نام سے پکارا جائے۔

  • لاہور میں سری لنکا،پاکستان کے ٹی 20 میچ کا امکان

    لاہور میں سری لنکا،پاکستان کے ٹی 20 میچ کا امکان

    سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلنگا سوماتھی پالا نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ٹیم پاکستان کے خلاف ستمبر میں کم ازکم ایک ٹی ٹوئنٹی میچ لاہور میں کھیلے۔

  • کرکٹر جو انڈیا پاکستان دونوں ٹیموں میں کھیلے

    کرکٹر جو انڈیا پاکستان دونوں ٹیموں میں کھیلے

    غور کریں کہ آج سے70 سال پہلے بر صغیر میں کرکٹ کیسا رہا ہوگا جب صرف ایک ٹیم انڈیا رہی ہو گی؟

  • یوسین بولٹ کو آخری دوڑ میں خفت، برطانوی ٹیم کا طلائی تمغہ

    یوسین بولٹ کو آخری دوڑ میں خفت، برطانوی ٹیم کا طلائی تمغہ

    جمیکا کے یوسین بولٹ اپنے کیریئر کے آخری ریس میں پٹھا کھنچ جانے کے بعد مقابلہ ختم کرنے میں ناکام رہے اور نتیجتاً برطانوی ٹیم نے طلائی تمغہ جیت لیا۔

  • مراکش بھی فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کا امیدوار

    مراکش بھی فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کا امیدوار

    مراکش کی فٹبال ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی 2026 کے فٹبال کلب کی میزبانی کی دوڑ میں شامل ہو گا۔

  • عامر خان اور فریال کی طلاق ’غلط فہمی کا نتیجہ‘

    عامر خان اور فریال کی طلاق ’غلط فہمی کا نتیجہ‘

    پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کی سابقہ اہلیہ فریال مخدوم نے کہا ہے کہ ان کے اور عامر خان کے حریف باکسر اینتھونی جوشوا کے ساتھ کوئی تعلقات نہیں ہیں اور اس سلسلے میں عامر خان کو ان کی گفتگو پر مبنی جو سکرین شاٹ بھیجے گئے تھے وہ جعلی تھے۔

  • بریڈ ہیڈن آسٹریلیا کے نئے فیلڈنگ کوچ مقرر

    بریڈ ہیڈن آسٹریلیا کے نئے فیلڈنگ کوچ مقرر

    کرکٹ آسٹریلیا نے سابق وکٹ کیپر بیسٹمین بریڈ ہیڈن کو آسٹریلین کرکٹ ٹیم کا نیا فیلڈنگ کوچ مقرر کر دیا ہے۔

  • پاکستان سنوکر کا عالمی چیمپیئن بن گیا

    پاکستان سنوکر کا عالمی چیمپیئن بن گیا

    پاکستان کے محمد آصف اور بابر مسیح نے مصر میں ہونے والی عالمی ٹیم سنوکر چیمپیئن شپ کے فائنل میں ہم وطن محمد سجاد اور اسجد اقبال کو شکست دے کر سنوکر چیمپیئن شپ جیت لی۔

Promo Image

Health Section
  • بھنگ کے نشے سے ہلاکت کا خطرہ تین گنا زیادہ

    بھنگ کے نشے سے ہلاکت کا خطرہ تین گنا زیادہ

    سائنس دانوں نے بھنگ کے انسانی صحت پر اثرات پر تحقیق کے سلسلے میں لگ بھگ 1200 افراد کا مطالعه کیا جن کا تعلق امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں سے تھا۔

  • یمن: ہیضے کی وبا 2000 زندگیاں نگل چکی ہے

    یمن: ہیضے کی وبا 2000 زندگیاں نگل چکی ہے

    صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں  چار ماہ قبل شروع ہونےو الی ہیضے کی وباسے اب تک پانچ لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ  1975 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹے ہیں ادارے کا کہنا ہے کہ یمن میں  ہر روز  پانی کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں کے پانچ ہزار کیسز دیکھنے میں آ رہے ہیں ۔ جو اسہال اور پانی کی کمی کا باعث بن رہے ہیں ۔   دو سال سے جاری جنگ زدہ  ملک میں صحت کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ۔ ’’ ہیضے کی یہ وبا  کچھ علاقوں میں نسبتا کم ہو گئی ہے لیکن وہ علاقے جہاں ابھی اس وبا ء کا آغاز ہو اہے وہاں یہ تیزی سے پھیل رہی ہے  اور لوگوں کی بڑی تعداد  ا س سے متاثر ہو رہی ہے ۔‘‘ جو کہ اعداد و شمار کے مطابق 503484 ہو چکی ہے۔ انسانی فضلے سے آلودہ پانی پینے یا خواراک کھانے سے پھلینے والی اس بیماری کا اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ چند گھنٹوں میں جان لے سکتی ہے۔  ترقی یافتہ ممالک میں سینی ٹیشن سسٹم کو بہتر بنا کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا چکاہے۔ سعودیہ کی  سربراہی میں اتحادی فوج اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان جاری خانہ جنگی سے  یمن کی معیشت تباہ ہو گئی ہے ، جس نے ہیضے اور قحط جیسی آفات سے نمٹنا نا ممکن بنا دیا ہے۔  ڈبلیو ایچ او  کا کہنا ہے کہ لاکھوں یمنی شہریوں کو صاف پانی کی ترسیل اور کئی علاقوں میں  فضلے کی صفائی  رکی ہوئی ہے۔  جبکہ اہم ادوایات بھی میسر نہیں ۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او  اوراس کے پارٹنرز ہیضے کے علاج کے لئے کلینک کھولنے ، علاج گاہوں کی بحالی اور میڈیکل  ترسیلات   فراہم کرنے کے لئے دن رات کام کر رہا ہے۔ علاج گاہ تک پہنچنے والے ننانوے فیصد افراد کے بچنے کی امید ہوتی ہے لیکن بچے اور بوڑھوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہیں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کا کہنا ہے کہ  یہ کوششیں موثر ثابت ہو رہی ہیں ۔ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ، ہیضے سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں میں  متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

  • گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

    گورکھ پور میں بچوں کی ہلاکتوں پر ریاستی حکومت سے جواب طلبی

    سہیل انجم  قومی انسانی حقوق کمشن نے گورکھ پور کے سرکاری بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں چند روز کے اندر 60 سے زائد بچوں کی اموات پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں صحت انتظامیہ نے انتہائی سنگ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمشن نے ریاست کے چیف سیکرٹری سے چار ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کی اور متاثرہ خاندانوں کی راحت کاری اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات مانگیں۔ 7 اگست کے بعد سے اب تک وہاں 63 سے زیادہ بچوں کی ا موات چکی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اموات کی وجہ آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنی نے 65 لاکھ روپے کے بقایا کی ادائیگی کے لیے متعدد بار درخواست کی تھی۔ عدم ادائیگی کی وجہ سے اس نے آکسیجن کی فراہمی بند کر دی تھی۔ بی جے پی صدر أمت شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ طلب کرنے پر کانگریس کی مذمت کی۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ پوری ریاست میں بچو ں کی اموات پر سوگ کا ماحول ہے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر دھوم دھام کے ساتھ پیر کے روز کرشن کا یوم پیدائش یعنی کرشن جنم اشٹمی کی تقریبات کا انعقاد کرے۔ ریاستی حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو معطل کرنے کے بعد انسے فلائیٹس مرض اور بچوں کے وارڈ کے سربراہ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جب کہ گورکھ پور اور مضافات میں انہیں ایک ہیرو کی حیثیت سے دیکھا جا تا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے10 اگست کی رات میں وہاں تعینات نیم مسلح دستے ایس ایس بی سے اس کی گاڑی مانگی اور متعدد جوانوں کو لے کر مختلف مقامات سے اپنی جیب سے آکسیجن کے سیلنڈر اکٹھے کیے اور کئی بچوں کی جان بچائی۔ بہت سے والدین اور ایس ایس بی کے عہدے داروں نے ان کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے ہیرو ہیں۔ دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمس کے ڈاکٹروں نے کفیل احمد کو ہٹائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں قرباني کا بکرا بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹرو ں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر ہرجیت سنگھ بھٹی نے کہاکہ ڈاکٹرو ں کو مورد إلزام ٹہرا کر سیاست دان اپنی نااہلی چھپا رہے ہیں۔ ادھر ریاستی وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بچوں کی اموات کے ذمے دار ہوں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • کینسر کی پاکستانی مریضہ کو بھارتی ویزہ جاری کرنے کا اعلان

    کینسر کی پاکستانی مریضہ کو بھارتی ویزہ جاری کرنے کا اعلان

    فائزہ تنویر منہ کے سرطان میں مبتلا ہیں اور رواں سال جولائی میں بھارت نے انھیں علاج کے لیے ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں مشروبات پر پابندی

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں مشروبات پر پابندی

    ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پابندی سائنٹیفک پینل کی سفارشات کی روشنی میں لگائی گئی ہے۔

  • یورپ میں انڈوں کا سکینڈل

    یورپ میں انڈوں کا سکینڈل

    یورپ کے مختلف حصوں میں متاثرہ انڈوں کی موجودگی کے انكشاف کاسلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ رومانیہ میں بھی انڈوں کی زردی میں فپرونائل اثرات پائے گئے ہیں۔

  • ڈاکٹر روتھ فاؤ کے جانے سے جذام کے مریض بے سہارا

    ڈاکٹر روتھ فاؤ کے جانے سے جذام کے مریض بے سہارا

    جب کسی انسان کی ہڈیوں سے گوشت علیحدہ ہوکر جھڑنے لگے، ہاتھ ، پیروں کی انگلیاں ’گھل گھل‘ کر ختم ہونے لگیں، جسم سے پیپ اورخون روکنے کے لئے پٹیاں لپیٹی جانے لگیں تو سمجھئے کوڑھ کا مرض ہوگیا ہے۔

  • سیب کھائیں، بیماریوں سے بچیں

    سیب کھائیں، بیماریوں سے بچیں

    سیب ایک ہی وقت، تحلیل ہونے والے اور حل نہ ہونے والے فائبر حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ تحلیل ہونے والے فائبر خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، جو دل کی بیماریوں کی روک تھام کا سبب بنتا ہے۔

  • "خدا کے واسطے لڑائی ختم کرو اور ہمارا علاج کرو"

    "خدا کے واسطے لڑائی ختم کرو اور ہمارا علاج کرو"

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے صوبہ بھر کے اسپتالوں میں احتجاجاً کام بند رکھا ہے۔ جس کے باعث مریضوں کو علاج معالجے کے لیے دشواری کا سامنا ہے۔ اوکاڑہ کی پچپن سالہ سکینہ بی بی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ جانے یہ کیسے ڈاکٹر ہیں جن کے سامنے مریض تڑپ رہے ہیں اور یہ علاج نہیں کر رہے۔ سکینہ بی بی اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو علاج کے لیے گزشتہ ہفتے اوکاڑہ سے سروسز اسپتال لاہور لائی تھی لیکن ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث اس کے بیٹے کو علاج کی سہولتیں نہ ملنے پر ہاتھ اٹھا کر کہہ رہی ہے کہ اس کے بیٹے کا علاج کرو وہ جگر کے عارضے میں مبتلا ہے۔ پنجاب کے بیشتر شہروں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے گزشتہ آٹھ روز سے ہڑتال پر ہیں۔ جس کا زیادہ اثر لاہور کے تمام سرکاری اسپتالوں پر ہے، جبکہ ملتان گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد اور رحیم یار خان کے اسپتالوں میں بھی ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے مریض اور ان کے اہل خانہ مشکلات سے دوچار ہیں، مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے آنے والوں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں ہڑتالی ینگ ڈاکٹرز ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈیوٹی انجام نہیں دے رہے جس کےباعث مریض دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث صوبہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں متعدد آپریشنز ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر معروف وینس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے لیے نہیں بلکہ مریضوں کے حقوق کی خاطر ہڑتال کی ہے۔ ڈاکٹر معروف وینس کہتے ہیں پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر، ادویات اور جدید مشینری کی کمی کا سامنا ہے۔ جبکہ ان کے مطالبات میں سیکرٹری صحت کا تبادلہ، نیشنل انڈیکشن پالیسی کا خاتمہ، رسک الاؤنس، ہیلتھ انشورنس اور دوران ملازمت بہتر حفاظتی انتظامات بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر معروف کہتے ہیں وہ گزشتہ ہفتے پرامن احتجاج کر رہے تھے لیکن پنجاب حکومت نے ان پر طاقت کا استعمال کر کے انہیں اشتعال دلایا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق جب تک ان کے مطالبات مان نہیں لیے جاتے اور ان کے برطرف ساتھی ڈاکٹروں کو واپس نہیں بلایا جاتا وہ احتجاج ختم نہیں کرینگے۔ پنجاب میں وزارت صحت اور خصوصی تعلیم کا قلمدان رکھنے والے وزیر خواجہ سلمان رفیق نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کو ناجائز قراد دیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ پوسٹ گریجوئیٹ ریزیڈینس کا وقت پورا ہونے کا ہے جس کے تحت تمام ڈاکٹر دیہی مراکز صحت میں کام کرنے کے پابند ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز سینٹرل انڈکشن پالیسی کے اس لیے خلاف ہیں کیونکہ حکومت نے محکمہ صحت پنجاب کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے جوڑ دیا ہے جس کے تحت ایک خود کار رجسٹریشن نظام کے ذریعے انہیں کچھ عرصہ بنیادی مراکز صحت میں کام کرنا پڑتا ہے جبکہ اس پالیسی سے پہلے ڈاکٹرز ملی بھگت سے اپنی مرضی سے قریب کے سٹیشن ڈھونڈ لیتے تھے۔ جس سے چھوٹے علاقوں کے شہریوں کو علاج کی سہولتیں نہیں ملتی تھی۔ خواجہ سلمان رفیق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت ڈاکٹروں کا بہتر سروس سٹرکچر کا مطالبہ سنہ دو ہزار تیرہ میں ہی مان چکی ہے جس کے تحت زیر تربیت ڈاکٹر کی تنخواہ پچیس ہزار سے بڑھا کر ستر ہزار جبکہ میڈیکل آفیسر کی ماہانہ تنخواہ نوے ہزار کر دی گئ ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ محکمہ صحت نے اب تک اکہتر غیر حاضر ڈاکٹروں کو برطرف کردیا ہے جبکہ بیالیس نئے میڈیکل آفیسرز اور  ایک سو سولہ انٹرنی بھرتی کیے گئے ہیں۔ وزیر صحت پنجاب کے مطابق صوبہ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز سے کام چلایا جا رہا ہے جبکہ مزید ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے انٹرویو لیے جائیں گے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے اس سے قبل بھی کئی مرتبہ ہڑتال پر جا چکے ہیں جن میں سے سنہ دو ہزار تیرہ اور سنہ دو ہزار چودہ کی ہڑتالیں قابل ذکر ہیں۔ دو ہزار تیرہ کی وائے ڈی اے کی ہڑتال ایک ماہ سے زائد عرصہ تک جاری رہی جس میں پنجاب حکومت نے فوج کے ڈاکٹروں کو عارضی طور پر لے کر کام چلایا تھا جسے بعد میں لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ختم کیا گیا تھا۔ سنہ دو ہزار چودہ کی ڈاکٹروں کی ہڑتال کئی دن جاری رہی جس میں بالا آخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے اور ڈاکٹروں کے مطالبات ماننا پڑے تھے۔


  • چین اور انڈیا کی سرحد پر ’پتھروں‘ سے لڑائی

    چین اور انڈیا کی سرحد پر ’پتھروں‘ سے لڑائی

    انڈین حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ہمالیہ میں انڈیا اور چین کے درمیان متنازع سرحد پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے اور فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا ہے۔

  • کیا چین انڈیا جنگ میں پاکستان غیر جانبدار تھا؟

    کیا چین انڈیا جنگ میں پاکستان غیر جانبدار تھا؟

    سنہ 1962 کی انڈیا چین جنگ میں پاکستان کس کے ساتھ تھا اور اب اگر جنگ ہوتی ہے تو وہ کس کا ساتھ دے گا؟

  • مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

    مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

    تقسیم ہند کے زخم اور پرآشوب دور نے دوریاں تو پیدا کیں لیکن دوستی کو ختم نہ کر سکے۔

  • جموں میں آباد روہنگیا واپس نہیں جانا چاہتے

    جموں میں آباد روہنگیا واپس نہیں جانا چاہتے

    گذشتہ چار برسوں سے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر ریاست میں مقیم روہنگیا مسلمان اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں جبکہ انڈین حکومت نے انہیں ملک چھوڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

  • بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انڈین یوم آزادی پر ہڑتال اور ناکہ بندی

    بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انڈین یوم آزادی پر ہڑتال اور ناکہ بندی

    انڈیا کے یوم آزادی پر نریندر مودی کے کشمیر کے حوالے سے بیان کے ردعمل میں علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

  • ایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

    ایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

    بی بی سی کی انتظامیہ نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بی بی سی فارسی سروس کے سٹاف کے ایران میں قابل منتقل اثاثوں کو منجمد کرنے کے عدالتی فیصلے کو ختم کرے۔

  • ایران کی چند گھنٹوں میں جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

    ایران کی چند گھنٹوں میں جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

    ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ ’چند ہی گھنٹوں‘ میں اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

  • تاریخ کا نیا باب شروع ہو رہا ہے: نہرو

    تاریخ کا نیا باب شروع ہو رہا ہے: نہرو

    انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے قوم کے نام خطاب میں کہا کہ وہ مقررہ دن آ پہنچا ہے جس کا قسمت نے وعدہ کیا تھا۔

  • کشمیر کا مسئلہ گالی اور گولی سے نہیں گلے لگانے سے حل ہو گا: مودی

    کشمیر کا مسئلہ گالی اور گولی سے نہیں گلے لگانے سے حل ہو گا: مودی

    انڈیا کی آزادی کے 70 ویں سالگرہ پر وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی کے تاریخی لال قلعے میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ گولی یا گالی سے نہیں بلکہ گلے لگانے سے حل ہو گا۔

South Asia News in Urdu

American News in Urdu
  • مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

    مودی اور ٹرمپ ٹو بائی ٹو وزارتی مذاکرات پر رضامند

    ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کو اس سال نومبر میں بھارت میں منعقد ہونے والی عالمی انٹرپرینر شپ کانفرنس کا انتظار ہے جس میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی بیٹی اور مشیر اوانکا ٹرمپ امریکی وفد کی قیادت کریں گی۔

  • میزائل حملہ ہوا تو مکمل جنگ ہوگی، امریکی وزیرِ دفاع

    میزائل حملہ ہوا تو مکمل جنگ ہوگی، امریکی وزیرِ دفاع

    پیر کی شب پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جِم میٹس نے کہا کہ اگر شمالی کوریا نے ایسی کوئی حرکت کی تو "کھیل شروع ہوجائے گا۔"

  • صدر ٹرمپ نے چین امریکہ تجارت کی تحقیقات کا حکم دے دیا

    صدر ٹرمپ نے چین امریکہ تجارت کی تحقیقات کا حکم دے دیا

    صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ تجارتی أمور کے عہدے دار چین کے اس طرز عمل کا جائزہ لیں کہ وہ امریکی کمپنیوں پر یہ زور دیتا ہے کہ وہ چین میں کاروبار کرنے کے لیے انٹلکچول معلومات کو افشا کرے۔

  • امریکہ میں نسل پرستی اور تعصب کی کوئی جگہ نہیں، صدر ٹرمپ

    امریکہ میں نسل پرستی اور تعصب کی کوئی جگہ نہیں، صدر ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ جو کو ئی  بھی شارلٹزول میں نسل پرستی پر مبنی تشدد میں ملوث ہوا ہے، اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • گوام کو خطرہ، اعلیٰ امریکی جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے

    گوام کو خطرہ، اعلیٰ امریکی جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے

    واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان غیر معمولی  خطرات کی صورت حال میں  امریکہ کے اعلیٰ ترین جنرل جزیرہ نما کوریا پہنچ گئے ہیں ۔ صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب سے گوام میں امریکی علاقے پر حملے کی دھمکی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔   صدر کا کہنا تھا کہ اگر گوام میں کچھ ہوتا ہے تو شمالی کوریا میں بہت بڑی مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔  کوریا کے سفر کے دوران امریکی جنرل جو ڈنفرڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی فوج کی بنیادی توجہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے سے متعلق انتظامیہ کی سفارتی اور اقتصادی مہم کی مدد کرنا ہے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ حملے کے منصوبے بھی تیار کر رہے ہیں ۔   ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی راہنما کے طور پرمجھے یہ یقینی بنانا ہے کہ سفارتی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مہم کی ناکامی کی صورت میں صدر کے پاس قابل عمل فوجی ترجيحات موجود ہوں ۔ اوسان ایئر بیس پر آمد کے بعد جنرل ڈنفرڈ نے وقت ضائع کیے بغیر خطے کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ ترین کمانڈروں سے ملاقات کی ۔ شمالی کوریا نے اس سال میزائل کے کئی تجربوں کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ پیانگ یانگ اب کہتا ہے کہ اس کے پاس ایک ایسا جوہری میزائل ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار بروس بینٹ نے اسکائپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ پر کوئی حملہ کرنے والا ہوا، تو میرا خیال ہے کہ امریکی صدر فوری طور پر تھیٹر کمانڈرسےشمالی کوریا کی جوہری صلاحیتوں سے چھٹکارے کا مطالبہ کریں گے۔ پیر کے روز سول میں فوج اور سیاسی راہنماؤں سے گفتگو کے بعد ڈنفرڈ چین جائیں گے، جو ایک ایسا ملک ہے جسے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے سے متعلق بین الاقوامی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا گیا ہے ۔ بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے رچرڈ بش کہتے ہیں کہ شمالی کوریا چین پر کافی انحصار کرتا ہے اس لیے اگر چین چاہے تو وہ اس ملک کو ان بہت سے وسائل سے انکار کر کے جن پر شمالی کوریا انحصار کرتا ہے، اسے متاثر کر سکتا ہے ۔ چینی راہنما شمالی کوریا کے جوہری عزائم کو کچلنے کے لیے پیانگ یانگ پردباؤ ڈالنے کی غرض سے وسائل سے انکار کرنے میں تامل سے کام لیتے رہے ہیں ۔ جانز ہاپکنزیونیورسٹی کے جول وٹ کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے مدد کی اتنی توقع نہ رکھیں جتنی آپ سمجھتے ہیں کہ انہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن بیجنگ ایسی علامات ظاہر کر چکا ہے کہ وہ برے رویے کا مظاہرہ کرنے والے اپنے اس پڑوسی کے ساتھ بیزاری کا اظہار کر سکتا ہے۔ وہ پیانگ یانگ پر نئی اقتصادی پابندیوں کے نفاز کے لئے ووٹنگ میں ایک متفقہ سلامتی کونسل کا ساتھ دے چکا ہے ۔ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز نے انتباہ کیا ہے کہ چین اس صورت میں شمالی کوریا کی مدد کے لیے نہیں آئے گا اگر وہ ایسا میزائل داغے گا جس سے امریکی سر زمین کو خطرہ لاحق ہو گا۔

  • شارلٹزول  میں مظاہرین پر گاڑی چڑھانے والے کو ضمانت نہ مل سکی

    شارلٹزول میں مظاہرین پر گاڑی چڑھانے والے کو ضمانت نہ مل سکی

    شارلٹز ول میں  سفید فام بالادستی سے متعلق احتجاج میں شامل  مظاہرین پر گاڑی چڑھا کر ایک خاتون کو ہلاک اور کئی افراد کو زخمی کرنے کےالزام میں گرفتار جیمز ایکس فیلڈز جونیئر کو پیر کے روز ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا ۔ بیس سالہ فیلڈز پر الزام ہے کہ اس نے مجمع پر اپنی گاڑی چڑھا کر  قانون کے شعبے میں کام کرنے والی 32 سالہ حیدرہیئر  کو کچل کر ہلاک کر دیا ، جو ہفتے کے روز حقوق کے حصول کے لیے کیے گئے مظاہرے میں شریک تھی۔ فیلڈز پر بلا ارادہ قتل میں ملوث ہونے ، جان بوجھ کر زخمی کرنے اور اپنی گاڑی روکنے میں ناکامی کے الزامات لگائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک ہلاکت ہوئی۔ جج نےفیلڈز کو اس پر لگائے جانے والے الزامات اور مقدمے کے سلسلے میں حقوق سے آگاہ کیا اور اسے ضمانت نہیں دی۔ اس کے مقدمے کی پیروی کے لیے اٹارنی چارلس ویبر کو مقرر کیا گیا ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت کے لیے 25 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے تاہم میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پیشی سے پہلے ممکنہ طور پر ضمانت سے متعلق سماعت ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریاست ورجینیا کے ایک قصبے شارلٹز ول میں قدیم دور میں غلام رکھنے کے ایک حامی رابرٹ لی کا مجسمہ ہٹانے کےخلاف سینکڑوں سفید فاموں نے مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں 19 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کے بارے میں یونیورسٹی آف ورجینیا کے شعبہ صحت نے بتایا کہ ان کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ جب کہ 9 زخمیوں کو اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ ورجینا پولیس نے دو اہل کار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کا ہیلی کاپٹر ہفتے کے روز اس وقت گر کر تباہ ہوگیا جب وہ شارلٹزول کے مظاہرے کی فضائی نگرانی کررہے تھے۔ شارلٹزول کے تشدد کے سیاسی نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی شکل میں ظاہر ہوئے ہیں اور ان پر سفید فام بالادستی کو ہدف بنانے میں ناکامی کا إلزام لگایا گیا۔

  • ایران: میزائل پروگرام اور بیرونی فوجی مہمات کے بجٹ میں اضافہ

    ایران: میزائل پروگرام اور بیرونی فوجی مہمات کے بجٹ میں اضافہ

    ایران کے خبررساں ادارے ارنا کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اتوار کے روز 247 ارکان پر مشتمل ایوان میں سے 240 نے مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔

  • 'شارلٹس ول میں تشدد و اموات امریکی قانون و انصاف کے دل پر ضرب ہے'

    امریکہ کی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں سفید فام قوم پرستوں کی ریلی کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والوں پر گاڑی چڑھائے جانے کے مہلک واقعے کی محکمہ انصاف نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا تھا کہ "شارلٹس ول میں تشدد اور اموات نے امریکی قانون و انصاف کے دل پر ضرب لگائی ہے۔" ان کے بقول نسلی تعصب اور نفرت سے جنم لینے والے اقدام "ہماری بنیادی اقدام کے منافی ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔" ورجینیا کے گورنر کے مطابق  تشدد کے واقعات میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد ہفتہ کو سفید فام قوم پرستوں مظاہرین سے کہا گیا تھا کہ "وہ اپنے گھروں کو واپس" چلے جائیں۔ یہ لوگ امریکہ کی خانہ جنگی کے دور میں غلامی کی حمایت کرنے والے جنرل رابرٹ لی کے مجسمے کو ہٹانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ شارلٹس ول میں مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد گورنر ٹیری میک اولف نے یہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میک اولف کا کہنا تھا کہ "تمام سفید فام قوم پرستوں اور نازی جو  آج شارلٹس ول میں آئے ہیں ان کے لیے میرا پیغام بہت واضح اور سادہ ہے 'گھروں کو واپس جاؤ'، تم لوگوں کی اس اس عظیم دولت مشترکہ میں ضرورت نہیں، تمہیں شرم آنی چاہیے۔" ہفتہ کو دیر گئے کیلفورنیا کے شہروں اوکلینڈ، سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور سان ڈیاگو میں مظاہرے دیکھنے میں آئے لیکن ان میں مظاہرین پر امن رہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوجرسی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت، تعصب اور تشدد پر مبنی واقعات قرار دیا۔ انھوں نے فوری طور پر شہر میں امن و امان کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "کسی بھی شہری کو اپنی سلامتی اور تحفظ سے متعلق خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔" شارلٹس میں جیسے ہی ریلی کا اختتام ہوا تو کار پر سوار ایک شخص نے گلی میں کھڑے لوگوں پر گاڑی چڑھا دی۔ وڈیو میں دکھائی دینے والے مناظر میں کئی لوگوں کو گاڑی کی ٹکر سے ہوا میں اچھل کر گرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس واقعے میں ایک 32 سالہ خاتون ہلاک اور دو درجن کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ پولیس نے کار کے ڈرائیور کو تحویل میں لے لیا جس کی شناخت اوہائیو کے 20 سالہ رہائشی جیمز ایلکس فیلڈز جونیئر کے نام سے کی گئی۔

  • ورجینیا: کار سوار نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، تین ہلاک

    ورجینیا: کار سوار نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی، تین ہلاک

    واقعہ سفید فام قوم پرستوں کی ریلی کے لئے اکٹھے ہونے والے مظاہرین اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیش آیا۔