کمپنی کو رقم سود سمیت واپس کرنے کی ہدایت
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 22 جون :۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ’گوڈفیم انویسٹمنٹ اینڈ فنانس کمپنی لمیٹڈ‘ کی عرضی پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس مدت کے لیے کمپنی کو ان کی بولی کی متناسب رقم واپس کرے، جس دوران کمپنی کان کنی کرنے سے قاصر رہی تھی۔ عدالت نے اس رقم پر 15 اکتوبر 2012 سے ادائیگی کی تاریخ تک 6 فیصد سالانہ سادہ سود ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔چیف جسٹس ایم ایس سوناک اور جسٹس راجیش شنکر کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ ریاست اپنی غلطی کا بوجھ ٹھیکیدار پر نہیں ڈال سکتی۔ عدالت نے رائلٹی، رجسٹریشن فیس اور اسٹامپ ڈیوٹی کی واپسی کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی۔سال 2011 میں مذکورہ کمپنی کو دھنباد ضلع کے پانچ ریت گھاٹوں کے لیے تین سال کے لیے کان کنی کے حقوق ملے تھے۔ کمپنی نے بولی کی 80 فیصد رقم جمع کر کے کام شروع کر دیا، لیکن جون 2012 میں حکومت نے یہ کہتے ہوئے ٹرانزٹ چالان جاری کرنا بند کر دیے کہ کمپنی کے پاس ماحولیاتی کلیئرنس نہیں ہے۔کمپنی کا موقف تھا کہ نیلامی یا لیز معاہدے میں ماحولیاتی کلیئرنس کی کوئی شرط نہیں تھی، جو بعد میں اچانک عائد کی گئی۔ کام رکنے کے بعد کمپنی نے 15 اکتوبر 2012 کو پانچوں گھاٹ واپس کر دیے تھے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت کمپنی سے رقم لے کر اسے کام کرنے سے روک نہیں سکتی اور نہ ہی اس رقم کو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔ کمپنی نے گھاٹ واپس کر کے درست قدم اٹھایا، لہذا اسے اس مدت کی رقم واپس ملنی چاہیے جس دوران وہ کانکنی نہیں کر سکی۔









Users Today : 29
Users Yesterday : 494
Users Last 7 days : 2653
Users Last 30 days : 5135
Users This Month : 5121
Users This Year : 5135
Total Users : 4566678