بنگال ووٹر لسٹ تنازع پر سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو حکم
کولکاتہ: مغربی بنگال کے خصوصی گہری نظرثانی معاملے میں سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم اور بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اپیل ٹربیونل اب نئے دستاویزات، خاص طور پر ثانوی (میٹرک) سرٹیفکیٹ سمیت دیگر کاغذات، دوبارہ جانچ سکتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے جن کے نام غلطی سے ووٹر فہرست سے خارج ہو گئے ہیں۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ اگر کسی شخص نے پہلے میٹرک یا دیگر تعلیمی/شناختی دستاویزات جمع کرائے تھے، لیکن ان پر غور نہیں ہوا، تو اپیل ٹربیونل انہیں دوبارہ دیکھ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی معاملے میں غلطی سے نام خارج ہونے کا شبہ ہو تو اس پر فیصلہ کرنے کا اختیار مکمل طور پر اپیل ٹربیونلز کے پاس ہوگا۔سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت سے درخواست کی کہ جن معاملات میں لگتا ہے کہ نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہاں عبوری راحت دی جانی چاہیے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ فیصلہ عدالت نہیں بلکہ اپیل ٹربیونل اپنی صوابدید سے کرے گا۔اس دوران وکیل شیام دیوان نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 60 لاکھ مقدمات میں سے 44 لاکھ کیسز کا ڈیٹا دستیاب ہو چکا ہے۔ ان میں سے تقریباً 55 فیصد نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ 45 فیصد نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ عدالت نے اس پر تشویش ظاہر کی کہ نام خارج ہونے کی شرح کافی زیادہ ہے۔دوسری جانب کولکاتا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجوئے پال نے سپریم کورٹ کو خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ پیر دوپہر 4.12بجے تک 59 لاکھ 15 ہزار کیسز کا تصفیہ کیا جا چکا ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ مرشد آباد اور مالدہ جیسے حساس اضلاع میں تقریباً 8 لاکھ اعتراضات موصول ہوئے تھے، لیکن ججوں کے گھیراؤ اور دیگر مشکلات کے باوجود کام ادھورا نہیں چھوڑا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس باغچی نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ بہت سے اپیل کنندگان کی شکایت ہے کہ انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ ان کی درخواست کیوں مسترد کی گئی۔ عدالت نے کمیشن سے کہا کہ ٹربیونلز کو ہدایت دی جا سکتی ہے کہ وہ مستردی کی وجوہات اور متعلقہ دستاویزات جاری کریں۔چیف جسٹس نے ایک اور اہم مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آف لائن دستاویزات جمع کرانے والوں کو رسید نہ ملنے کی بھی شکایات سامنے آئی ہیں، جو ایک سنگین انتظامی خامی ہے۔ چیف جسٹس نے یہاں تک کہا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار موبائل فون عدالت کے کمرے میں لائے ہیں کیونکہ ان کے پاس سابق جسٹس شیوگیانم کا خط موجود تھا، جس میں اپیل کے عمل اور ذاتی سماعت کے طریقہ کار پر وضاحت مانگی گئی تھی۔وکیل شیام دیوان نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ اپیل نظام بہت لمبا، پیچیدہ اور عام آدمی کے لیے مشکل ہے، اس لیے اس میں سادگی اور شفافیت لانا ضروری ہے۔یہ معاملہ اس لیے بھی انتہائی اہم ہو گیا ہے کیونکہ پیر کو پہلے مرحلے کے انتخابات کے لیے نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن بھی تھا، اور اسی روز زیر غور ووٹرز کے تصفیے کا کام مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی تھی۔ سپریم کورٹ کی اس مداخلت کے بعد اب ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ووٹروں کو بڑی قانونی امید مل گئی ہے۔
