ابھیشیک بنرجی کا بی جے پی کو چیلنج
رائنا: ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے رائنا اسمبلی حلقہ میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مذہب کے نام پر نہیں بلکہ کام اور کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں۔رائنا کے شیام سندر کالج گراؤنڈ میں ترنمول امیدوار مندرا دلوئی کی حمایت میں جلسہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بردوان میں 2021 کی طرح اس بار بھی 16-0 کا نتیجہ آئے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ رائنا اسمبلی سیٹ پر ترنمول امیدوار 50 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے جیتیں گی۔ابھیشیک نے کہا کہ4 مئی کو کمل بابو کو سرسوں کا پھول دکھانا ہے۔انہوں نے اپنی تقریر میں مودی حکومت کو مہنگائی اور عوامی مشکلات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ان کے مطابق نوٹ بندی سے لے کر گیس کی قیمتوں تک، عوام کو صرف قطاروں میں کھڑا کر کے پریشان کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی آپ کی آنکھوں میں آنسو چاہتی ہے، جبکہ ترنمول آپ کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہے۔ابھیشیک نے کہا کہ جب مودی وزیر اعظم بنے تھے تو گیس سلنڈر 400 روپے کا تھا، لیکن آج اس کی قیمت 1000 روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی حکومت نے عام آدمی کو صرف مہنگائی اور پریشانی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ چائے، مصالحہ، راشن اور روزمرہ کی چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔اس کے برعکس، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول حکومت نے لکشمی بھنڈر، کرشک بندھو اور دیگر اسکیموں کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رائنا علاقے میں 91 ہزار سے زیادہ خواتین مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ساتھ ہی گزشتہ دو برسوں میں 13,902 افراد کو گھر بنانے کے لیے 1.20 لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ابھیشیک بنرجی نے عوام سے وعدہ کیا کہ ترنمول حکومت دوبارہ بننے پر رائنا میں فائر بریگیڈ اسٹیشن اور کولڈ اسٹوریج بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ترنمول صرف وعدے نہیں کرتی بلکہ زمین پر کام بھی کرتی ہے۔مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گووند بھوگ چاول کی برآمد پر پابندی لگا کر کسانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ان کے مطابق بی جے پی کو ووٹ دینے کا مطلب عوامی مفاد کے خلاف ووٹ دینا ہے۔اپنی تقریر کے آخر میں ابھیشیک نے کہا کہ 2021 میں ترنمول امیدوار 18 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے۔جبکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اسی اسمبلی حلقے میں ترنمول کو 51.2 فیصد ووٹ ملے تھے۔انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس بار رائنا میں جیت کا فرق اور بھی بڑا ہوگا۔ان کا صاف پیغام تھا کہ عوام مذہب اور نفرت نہیں، بلکہ ترقی، کام اور فلاحی منصوبوں کی بنیاد پر ووٹ دیں۔
