ممتا بنرجی کا مطالبہ منظور: مائیکرو آبزرور کے بجائے عدالتی افسران کریں گے نگرانی
کولکاتہ: سپریم کورٹ نے بنگال کے ایس آئی آر (سرکاری انتخابی فہرست) دستاویزات کی تصدیق کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اب سے اس عمل کی نگرانی عدالت کے مقرر کردہ جوڈیشل افسران کریں گے، نہ کہ مائیکرو آبزرور یا رول مبصر۔ یہ حکم بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے مطالبے پر دیا گیا ہے، اور اب اس دستاویز کی تصدیق کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ان جوڈیشل افسران کی تقرری کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے، اور انہیں ڈسٹرکٹ ججز یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز میں سے منتخب کیا جا سکتا ہے۔ سابق جج اس معاملے میں ان افسران کو مشورے فراہم کریں گے، اور ان کے فیصلے حتمی ہوں گے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ جو بھی حکم ان افسران کے ذریعے دیا جائے گا، وہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔اس فیصلے کے بعد ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جب کہ ریاست کے وکیل کپل سبل نے خدشہ ظاہر کیا کہ عدالتی افسران کی بھرتی میں کمی اور عملے کی کمی کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اس پر فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست افسران فراہم نہیں کر سکتی تو فوری طور پر کمیشن کو مطلع کرے۔سپریم کورٹ نے ریاستی پولیس کے ڈی جی اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیسکوجوڈیشل افسران کی حفاظت کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی ہے، اور 28 فروری کو ایس آئی آر فہرست کے جاری ہونے سے قبل تمام دستاویزات کی تصدیق کی جائے گی۔ اگر ضرورت پڑی تو اضافی فہرستیں بھی بعد میں جاری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد، ایس آئی آر کیس کی اگلی سماعت مارچ کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایس آئی آر کی فہرست کی تصدیق ایک غیر متنازعہ اور شفاف طریقے سے کی جائے۔
اور اس میں تمام قانونی اصولوں کی پاسداری کی جائے۔
