ترنمول اور کانگریس ایک ساتھ !پارلیمنٹ کو پارٹی آفس نہ بنائیں
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :نئی دہلی: لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر بدھ کے روز زبردست سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسپیکر اوم برلاپر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت اور اسپیکر دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بحث کے دوران کانگریس اور ترنمول کانگریس ایک ساتھ کھڑی نظر آئیں اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا۔اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بحث کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بھی اپوزیشن کے ارکان بولنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں بار بار روک دیا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ لوک سبھا کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندہ ہے، اس لیے ہر منتخب نمائندے کو اپنی بات رکھنے کا برابر حق ملنا چاہیے۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے بھی بحث کے دوران حکومت اور اسپیکر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جمہوری روایات کمزور ہوتی جا رہی ہیں اور اپوزیشن کے ارکان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’پارلیمنٹ کو پارٹی دفتر میں تبدیل نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق پارلیمنٹ کو عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث کا مرکز ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے تشہیری پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ساگریکا گھوش نے اپنی تقریر میں راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو بار بار بولنے سے روکا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی اہم بل بغیر مناسب بحث کے جلدی میں پیش کیے جا رہے ہیں اور بعض اوقات آدھی رات کو بھی ایوان میں لائے جا رہے ہیں، جس سے پارلیمانی روایات متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب راہل گاندھی نے چین سے متعلق معاملے پر سابق آرمی چیف منوج نروانے کی ایک کتاب کا حوالہ دینے کی کوشش کی تو انہیں روک دیا گیا۔ اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی قواعد کے مطابق کتاب یا اخبار کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم بعد میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے اپنی تقریر کے دوران مختلف کتابوں کا حوالہ دیا، جس پر اپوزیشن نے دوہرے معیار کا الزام لگایا۔دوسری جانب بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر کے عہدے کو کسی سیاسی رہنما کی انا کی تسکین کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات پر بات کرتے وقت زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔بحث کے دوران ایوان کا ماحول خاصا گرم رہا اور کئی بار ارکان کے درمیان تکرار بھی دیکھنے کو ملی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انہیں ایوان میں اپنی بات مکمل طور پر رکھنے کا حق نہیں دیا جا رہا، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی قواعد کے مطابق چل رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
