ترنمول کانگریس دوبارہ حکومت بنائے گی: ممتا بنرجی کا دعویٰ
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ : مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے بدھ کے روز بھوانی پور اسمبلی حلقہ سے اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کر دیا۔ نامزدگی داخل کرنے کے بعد ممتا نے بھوانی پور سے اپنے گہرے رشتے کا اظہار کرتے ہوئے کہا،میرا مذہبی کام یہاں ہے، میں یہیں رہی ہوں، میں یہیں ہوں، بھوانی پور میرا سب کچھ ہے۔ساتھ ہی انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ ترنمول کانگریس ایک بار پھر حکومت بنائے گی۔بدھ کی صبح ممتا بنرجی کالی گھاٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ سے ایک بڑے جلوس کی شکل میں علی پور کی سروے بلڈنگ کے لیے روانہ ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنا نامزدگی فارم داخل کیا۔ اس موقع پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ہاتھوں میں پارٹی جھنڈے، بینر اور غبارے لیے کارکن اپنی لیڈر کے استقبال میں سڑکوں پر موجود رہے، جس سے پورا علاقہ انتخابی رنگ میں رنگا نظر آیا۔یہ چوتھی بار ہے کہ ممتا بنرجی نے بھوانی پور سے نامزدگی داخل کی ہے۔ پرچہ داخل کرنے کے بعد باہر آ کر انہوں نے میڈیا اور کارکنوں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھوانی پور کے لوگوں سے ان کا تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ جذباتی اور ذاتی بھی ہے۔ انہوں نے کہا،میں بھوانی پور میں رہتی ہوں، میری زندگی، میرا کام، سب کچھ یہیں سے جڑا ہے۔ بھوانی پور کے لوگوں کے سامنے میرا سر جھکا ہوا ہے۔ممتا بنرجی نے اس موقع پر صرف اپنی نشست تک بات محدود نہیں رکھی بلکہ پوری ریاست کے 294 اسمبلی حلقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترنمول کے تمام امیدواروں کے لیے بھرپور مہم چلائیں گی۔ ان کے الفاظ میں،”میں صرف بھوانی پور کے لیے نہیں، بلکہ ریاست کے تمام 294 حلقوں میں ترنمول امیدواروں کی جیت کے لیے کام کروں گی۔نامزدگی کے بعد ممتا بنرجی نے ایک بار پھر SIR (خصوصی ووٹر لسٹ نظرثانی) کے معاملے کو بھی اٹھایا اور الزام لگایا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت تشویشناک ہے اور اس کے خلاف وہ پہلے بھی قانونی لڑائی لڑ چکی ہیں۔انہوں نے کہا،میں دکھ کے ساتھ مانتی ہوں کہ بہت سے لوگوں کے نام فہرست سے باہر رہ گئے ہیں۔ جو کچھ نام واپس آئے ہیں، وہ ہماری قانونی لڑائی کی وجہ سے آئے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں دوبارہ سپریم کورٹ جاؤں گی۔سیاسی مبصرین کے مطابق، ممتا بنرجی کا نامزدگی کے موقع پر یہ بیان صرف انتخابی رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہے۔ ایک طرف انہوں نے بھوانی پور کو اپنی سیاسی اور جذباتی طاقت کا مرکز قرار دیا، تو دوسری طرف ووٹروں کے نام خارج ہونے کے مسئلے کو اٹھا کر انتخابی بیانیے کو بھی نئی شدت دی۔ترنمول کانگریس اس بار ریاست میں مسلسل چوتھی مرتبہ اقتدار میں آنے کے دعوے کے ساتھ میدان میں ہے، اور ممتا بنرجی کی نامزدگی نے اس انتخابی مہم کو ایک نئی علامتی اور سیاسی اہمیت دے دی ہے۔
