شنکر کے انتقال پر ممتا بنرجی کا اظہارِ افسوس
کہا ان کی تحریروں میں عام انسان کی جدوجہد جھلکتی تھی
کولکاتہ :معروف بنگالی ادیب منی شنکر مکھرجی (شنکر) کے انتقال کی خبر نے ادبی دنیا کو سوگوار کر دیا۔ ’چورنگی‘ اور ’سیمابدھ‘ جیسے لازوال ناولوں کے خالق شنکر نے جمعہ کے روز طویل علالت کے بعد آخری سانس لی۔ وہ بڑھاپے سے متعلق مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی بنگال کے ادبی حلقوں، کتاب بازار اور قارئین میں غم کی لہر دوڑ گئی۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ شنکر کے انتقال سے بنگالی ادب کا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ شنکر کی تخلیقات میں عام لوگوں کی خوشیوں، غموں اور زندگی کی جدوجہد کی سچی جھلک ملتی ہے۔ممتا بنرجی نے اپنے تعزیتی پیغام میں مزید کہا کہ ’چورنگی‘ سے لے کر ’جن آرانیہ‘ اور ’سیمابدھ‘ تک ان کی لازوال تخلیقات نے نسلوں تک بنگالی قارئین کو مسحور رکھا۔ انہوں نے خاص طور پر سوامی وویکانند پر شنکر کی تحقیقی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال ثقافتی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوگوار خاندان اور لاکھوں مداحوں سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔سیاسی حلقوں میں بھی غم کی فضا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم اور بی جے پی کے رہنما سکانتا مجمدار نے بھی تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شنکر کی ادبی خدمات کو نسلیں یاد رکھیں گی اور بنگال کے ثقافتی ورثے میں ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔1933 میں بنگاؤں میں پیدا ہونے والے شنکر نے کم عمری میں ہی والد کو کھو دیا اور خاندان کی ذمہ داری سنبھالی۔ کبھی کلرک اور کبھی ہاکر کے طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو قریب سے دیکھا۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے آخری انگریز بیرسٹر نیل فریڈرک برویل کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بعد میں ان کے ناول ’کت اجنارے‘ کی بنیاد بنا۔ان کی اصل شہرت ’چورنگی‘ سے ملی، جس میں شاہجہاں ہوٹل کی چمکتی دنیا کے پیچھے چھپی انسانی کہانیاں بیان کی گئیں۔ یہ ناول آج بھی بیسٹ سیلر مانا جاتا ہے اور بنگالی ادب کی کلاسک تخلیقات میں شمار ہوتا ہے۔شنکر کی تحریروں نے نہ صرف ادب کو نئی جہت دی بلکہ متوسط اور عام انسان کی زندگی کو مرکزی موضوع بنا کر قارئین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ ان کا انتقال یقیناً ایک عہد کے خاتمے کے مترادف ہے۔
