ہومWest Bengalمغربی بنگال اسمبلی میں 'پنچایت ترمیمی بل ' منظور

مغربی بنگال اسمبلی میں ‘پنچایت ترمیمی بل ‘ منظور

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

عدم اعتماد کی تحریک پر پابندی اب 3 سال تک برقرار

جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی نے آج ایک اہم سیاسی اور انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے “مغربی بنگال پنچایت (ترمیمی) بل منظور کر لیا۔ اس ترمیم کے ذریعے تین سطحی پنچایت نظام میں عدم اعتماد کی تحریک کے خلاف پابندی کی مدت بڑھا کر تین سال کر دی گئی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق، ضلع پریشد کے چیئرمین اور وائس چیئرمین، پنچایت سمیتی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین اور گرام پنچایت کے چیف اور ڈپٹی چیف کے خلاف میعاد پوری ہونے سے پہلے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد تین سال تک مؤخر رہے گی۔یہ بل دراصل اسمبلی میں پیش کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، لیکن بجٹ اجلاس کے آخری دن اسپیکر بمان بندوپادھیائے کے چیمبر میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی غیر معمولی میٹنگ طلب کی گئی۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے سے قبل اس بل کو ایوان میں پیش کیا جائے۔ مغربی بنگال کے پنچایتی امور اور دیہی ترقی کے وزیر پردیپ مجمدار نے کہا کہ یہ ترمیم ریاست میں تین درجے پنچایتی نظام میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔نئی ترمیم کے نفاذ سے پہلے، متعلقہ حکام کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ڈھائی سال کی پابندی تھی، جسے اب تین سال تک بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیر مجمدار نے کہا، یہ بل پنچایت نظام کی مضبوطی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھا تاکہ مقامی حکومتوں میں اچانک سیاسی بحران پیدا نہ ہو ،تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سیشن کے آخری اوقات میں بل کو جلد بازی میں ایوان میں متعارف کرانے پر شدید احتجاج کیا۔ بی جے پی ایم ایل اے اروپ کمار داس نے الزام لگایا کہ اس ترمیم کا اصل مقصد حکمراں ترنمول کانگریس کے اندر سیاسی استحکام حاصل کرنا تھا، نہ کہ پنچایت نظام میں حقیقی مضبوطی۔ داس نے کہا،اگر سیاسی ایجنڈا نہ ہوتا تو یہ بل اتنی جلد بازی میں منظور نہیں کیا جاتا، اور یہ بھی ریاستی اسمبلی انتخابات سے صرف دو ماہ قبل آیا ہے۔بی جے پی کے احتجاج کے باوجود بل ایوان میں پیش کیا گیا اور منظور کر لیا گیا۔ اب یہ بل گورنر سی وی آنند بوس کے پاس منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ قانونی طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس ترمیم کے بعد ریاست کے پنچایتی نظام میں استحکام قائم رہے گا، اور عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اچانک سیاسی بحران پیدا ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔سیاست کے ماہرین کے مطابق، اس ترمیم کے بعد ترنمول کانگریس کے لیے مقامی سطح پر اپنے لیڈروں کو مضبوط کرنا آسان ہو جائے گا، جبکہ بی جے پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے اس میں قانونی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ واضح ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی نے انتخابات سے چند ماہ قبل ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ریاستی سیاست اور پنچایتی نظام کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version