شناخت کی تصدیق کے لیے الگ کاؤنٹر بنانے پر الیکشن کمیشن کا غور
کولکاتہ: آنے والے انتخابات کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹنگ کے طریقہ کار میں کچھ نئی سختیاں لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر برقعہ پہننے والی خواتین ووٹرز کی شناخت کی تصدیق کے لیے ایک الگ کاؤنٹر بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق اگر کوئی خاتون برقعہ پہن کر ووٹ ڈالنے آتی ہے تو اسے پہلے ایک مخصوص کاؤنٹر پر جا کر اپنا فوٹو شناختی کارڈ دکھانا ہوگا اور وہاں چہرے کی تصدیق کرانی ہوگی۔ اس کے بعد ہی اسے پولنگ بوتھ پر جا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے گی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانا اور کسی بھی قسم کی دھاندلی کو روکنا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ کمیشن اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ آیا یہ فیصلہ اقلیتی برادری کے لیے قابل قبول ہوگا یا نہیں۔ اس حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔دوسری طرف ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل بھی جاری ہے۔ 28 فروری کو جاری کی گئی حتمی فہرست میں تقریباً 60 لاکھ ووٹرز کے معاملات زیر التوا بتائے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً 15 لاکھ کیسز پر ابتدائی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے تک مزید فہرستیں مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جن افراد کے معاملات ابھی زیر سماعت ہیں وہ اس وقت تک انتخابی کاغذات نامزدگی داخل نہیں کر سکیں گے جب تک ان کا معاملہ مکمل طور پر حل نہ ہو جائے۔ اگر کوئی امیدوار اس فیصلے سے متفق نہ ہو تو وہ عدالتی افسران یا متعلقہ ٹریبونل سے رجوع کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس بار بنگال میں ووٹنگ کے لیے بہار ماڈل کے کچھ اصول بھی اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ہر بوتھ پر شناخت کی جانچ کے لیے الگ کاؤنٹر رکھا جاتا ہے تاکہ ووٹر کی درست شناخت کی جا سکے۔اس کے علاوہ الیکشن کمیشن بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے لیے سہولت بڑھانے پر بھی غور کر رہا ہے۔ منصوبہ ہے کہ ایسے ووٹرز کو گھر بیٹھے ووٹ ڈالنے کی سہولت دی جائے تاکہ انہیں پولنگ اسٹیشن تک آنے میں دشواری نہ ہو۔سیاسی مبصرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منظم بنانا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں ان تجاویز پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
