کولکاتہ، 5 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت ماتوا برادری کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دے گی اور ان کے حقوق سلب کرنے کی کوششوں کے خلاف بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے ماتوا برادری کی روحانی پیشوا بینا پانی دیوی (بڑوماں) کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیرِ قیادت مرکزی حکومت ‘خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بہانے ووٹر لسٹوں سے نام حذف کر کے ماتوا برادری کے رائے دہندگان میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کر رہی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ حتمی ووٹر لسٹ سے تقریباً 63 لاکھ نام ہٹائے جانے کے الزامات کے باعث سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے، جس سے شمالی 24 پرگنہ اور ندیا جیسے اضلاع میں ماتوا برادری کے ووٹرز براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ کئی ناموں کو ‘زیرِ سماعت زمرے میں ڈالے جانے پر انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ممتا بنرجی نے بڑو ماں کے ساتھ اپنے دیرینہ جذباتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ان کی مادری شفقت حاصل رہی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریاستی حکومت نے بڑوماں کو ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں ریاست کے سب سے بڑے اعزاز ‘بنگ وبھوشن سے نوازا تھا۔ انہوں نے ہری چند ٹھاکر اور گروچند ٹھاکر کی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں چلنے والی تحریک دلتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق اور تعلیم کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے ماتوا برادری کے لیے اپنی حکومت کے ترقیاتی اقدامات کا تفصیلی ذکر کیا، جن میں ماتوا اور نامشودرا ڈیولپمنٹ بورڈز کا قیام، ہری چند-گورچند یونیورسٹی کی بنیاد، اور گائے گھاٹا میں پی آر ٹھاکر گورنمنٹ کالج جیسی اہم پروجیکٹس شامل ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہریت دینے کے نام پر محض سیاست کی جا رہی ہے اور جن لوگوں کی نسلیں ہندوستان کی شہری رہی ہیں، انہیں آج غیر یقینی صورتحال کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ماتوا برادری کے حقوق چھیننے کی کوششوں کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی: ممتا بنرجی
مقالات ذات صلة
