وزیر اعلی نے پانچ دن بعد دھرنا عارضی طور پر واپس لیا
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایس آئی آر کے معاملے پر جاری اپنا احتجاج پانچ دن بعد عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ 6 مارچ سے کولکاتا کے دھرمتلا میں الیکشن کمیشن کے خلاف دھرنے پر بیٹھی تھیں۔ ان کا الزام تھا کہ ایس آئی آر کے نام پر ریاست کے جائز ووٹروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی سازش کی جا رہی ہے۔منگل کو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ایک اہم مشاہدہ سامنے آیا، جس کے بعد ممتا بنرجی نے دھرنا اسٹیج سے عوام کو پوری صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ووٹر کا نام فہرست سے ہٹ بھی جائے تو انتخابات سے ایک دن پہلے تک اسے درست کرانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس بیان کو راحت قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ اب لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور قانونی راستہ کھلا ہوا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے اس مشاہدے پر بھروسہ کر رہی ہیں اور اسی اعتماد کی بنیاد پر فی الحال احتجاج کو عارضی طور پر واپس لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس بار انہیں امید ہے کہ جائز ووٹروں کو انصاف ملے گا اور جن لوگوں کے حقوق دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی انہیں ان کا حق واپس ملے گا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جو دروازہ پہلے بند نظر آ رہا تھا اب وہ کھلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اس لیے سب کو صبر کے ساتھ آگے کی کارروائی کا انتظار کرنا چاہیے۔اس موقع پر ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن جان بوجھ کر ایسے فیصلے کر رہا ہے جس سے انتخابات کا ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ووٹ کا حق سب سے اہم ہے اور کسی بھی قیمت پر عوام کے اس حق کو چھینا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دیگر قومی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بھی مرکز کی پالیسیوں پر تنقید کی۔دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ اب وہ سپریم کورٹ کے آئندہ فیصلے کا انتظار کریں گی۔ ان کے مطابق اگر ضرورت پڑی تو وہ دوبارہ سڑک پر اتر کر احتجاج کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر اور اعتماد کے ساتھ صورتحال پر نظر رکھیں کیونکہ انصاف کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے۔آخر میں ممتا بنرجی نے یہ بھی اعلان کیا کہ دھرنا ختم کرنے کے بعد وہ سابق گورنر سی وی آنند بوس سے ملاقات کرنے جائیں گی اور موجودہ سیاسی و انتظامی صورتحال پر بات کریں گی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت ریاست کے ہر ووٹر کے حق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
