کچھ حلقوں میں سماعت کی مدت میں توسیع کا امکان
کولکاتہ، 7 فروری (یو این آئی) مغربی بنگال کی عبوری ووٹرفہرستوں پر دعوؤں اور اعتراضات کو نمٹانے کی مدت ہفتہ کو ختم ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر انتخابی حکام تقریباً 15 اسمبلی حلقوں میں مختصر توسیع پر غور کر رہے ہیں جہاں ابھی عمل مکمل ہونا باقی ہے۔یہ حلقے زیادہ تر تین انتخابی اضلاع— اقلیتی اکثریتی مالدہ، ساحلی جنوبی 24 پرگنہ اور شمالی کولکاتہ کے ہوئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ان علاقوں کے ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسرز (ڈی ای او) نے اضافی وقت کے لیے باقاعدہ تجاویز پہلے ہی چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای او) منوج کمار اگروال کو پیش کر دی ہیں۔ سی ای او آفس کے ایک سینئر اہلکار نے اشارہ دیا کہ حتمی فیصلہ ہفتہ تک سماعتوں کی رفتار پر منحصر ہوگا۔زمینی صورتحال کی بنیاد پر، توقع ہے کہ سی ای او اپنی سفارشات نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو بھیجیں گے تاکہ ممکنہ طور پر چند دنوں کی مختصر توسیع کی منظوری حاصل کی جا سکے۔دریں اثنا، نظرِ ثانی کی اس مشق کے دوران ووٹرفہرست سے نکالنے کے لیے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جمعہ کی شام تک، چار لاکھ سے زائد ناموں کو حتمی ووٹر فہرست سے حذف کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا تھا کیونکہ متعلقہ افراد بار بار نوٹس کے باوجود سماعت کے افسران کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔حکام کے مطابق، ان میں سے تقریباً 50,000 ووٹرز،ان میپڈ،کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو خود یا اپنے ورثا کے ذریعے 2002 کی ووٹر فہرست کے ساتھ کوئی قابلِ تصدیق تعلق قائم نہیں کر سکے۔ مزید تقریباً 3.5 لاکھ کیسز ،منطقی تضادات، سے متعلق ہیں، جہاں خاندان کے باہمی ڈیٹا میں تضادات پائے گئے۔یہ جاری جانچ پڑتال دسمبر میں عبوری فہرستوں کی اشاعت کے بعد شروع ہوئی ہے، جب 58.2 لاکھ نام پہلے ہی حذف کر دیے گئے تھے کیونکہ وہ فوت شدہ افراد، منتقل ہونے والے ووٹرز یا دوہرے اندراجات (ڈپلیکیٹ اینٹریز) کے زمرے میں پائے گئے تھے۔
اخراج کے حتمی پیمانے کا علم 14 فروری کو حتمی ووٹر فہرستوں کے اجراء کے بعد ہوگا۔
