ایس سی-ایس ٹی حلقوں میں ترنمول کی نئی حکمت عملی
کولکاتہ :انتخابات سے قبل ریاستی سیاست میں سرگرمی تیز ہو گئی ہے اور حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے ووٹ بینک کو مرکزِ توجہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کی 84 ایسی اسمبلی نشستوں پر خصوصی پروگرام شروع کیا جائے گا جہاں ایس سی اور ایس ٹی ووٹروں کی اکثریت ہے۔ اس مہم کے تحت خصوصی گاڑیاں تعینات کی جائیں گی جن میں پارٹی کارکن گھر گھر جا کر عوام کو سرکاری اسکیموں اور پارٹی کے اقدامات سے آگاہ کریں گے۔یہ اعلان کولکاتہ کے نذرل منچ میں منعقد ایک بڑے پروگرام میں کیا گیا جہاں ایس سی طبقے کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اپنے خطاب میں ابھیشیک نے کہا کہ کارکن کسی بھی صورت سستی نہ دکھائیں اور اگر کسی بوتھ پر 100 ووٹ ملنے کا یقین ہو تو اسے 200 تک لے جانے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن خود میدان میں اتریں اور عوام کو سمجھائیں کہ ریاست میں ممتا بنرجی کی قیادت میں حکومت نے پسماندہ طبقات کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔اپنی تقریر میں انہوں نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں درج فہرست ذاتوں پر مظالم کے واقعات زیادہ ہیں۔
انہوں نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش، راجستھان اور مدھیہ پردیش جیسے صوبے اس معاملے میں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی بابا صاحب بی آر امبیڈکر کے بنائے آئین میں تبدیلی کر کے کمزور طبقات کے حقوق کمزور کرنا چاہتی ہے۔ابھیشیک بنرجی نے بی جے پی کی مجوزہ رتھ یاترا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ روایتی طور پر رتھ یاترا مخصوص مہینوں میں ہوتی ہے، فروری میں اس کا انعقاد محض سیاسی ڈرامہ ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ چوروں اور دھوکہ بازوں کا رتھ ہے، اسے سنبھال کر رکھیں، ہمیں اسی رتھ میں گجرات واپس بھیجنا پڑے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ترنمول کی یہ نئی حکمت عملی واضح اشارہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں پارٹی سماجی طور پر پسماندہ طبقات پر خاص توجہ دے کر انتخابی میدان مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن اس بیان بازی کو محض انتخابی حکمت عملی قرار دے رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔
