سپریم کورٹ کے حکم پر مغربی بنگال حکومت بقایا ڈی اے کی ادائیگی کرے گی
کولکاتہ :مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بقایا مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) ادا کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان ووٹنگ کے شیڈول کے اعلان سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا، جس کے بعد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بڑی راحت ملی ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے تعلیمی اداروں کے لاکھوں اساتذہ، غیر تدریسی عملہ، پنچایتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر مقامی کمیٹیوں کے ملازمین کو بقایا ڈی اے دیا جائے گا۔ ریاستی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین کو بقایا رقم آر او پی اے کے تحت ڈی اے 200 کے حساب سے ادا کی جائے گی اور اس کی پہلی قسط مارچ کے مہینے میں ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کر دی جائے گی۔واضح رہے کہ اس معاملے میں پہلے کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی سرکاری ملازمین کو بقایا ڈی اے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد میں ریاستی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے معاملہ سپریم کورٹ آف انڈیامیں اٹھایا تھا۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ مہنگائی الاؤنس ملازمین کا قانونی حق ہے اور ریاستی حکومت کو بقایا رقم ادا کرنا ہوگی۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ بقایا ڈی اے کا 25 فیصد حصہ مئی تک دو قسطوں میں ادا کیا جائے اور اس کی پہلی قسط 31 مارچ تک جاری کی جائے۔اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس سنجے کرول اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ڈی اے ملازمین کا حق ہے اور اس کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے طریقہ کار اور مدت کا تعین ریٹائرڈ جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی کرے گی۔ریاستی حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈی اے کی ادائیگی کے لیے تین لاکھ سترہ ہزار سے زیادہ ملازمین کے ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔ حکومت کے مطابق ان میں سے کئی ملازمین کی معلومات 2016 تک ڈیجیٹل شکل میں موجود نہیں تھیں بلکہ سروس بک کی صورت میں ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات تھیں، جنہیں ڈیجیٹائز کرنے میں وقت لگ رہا تھا۔ اسی وجہ سے حکومت نے سپریم کورٹ سے ادائیگی کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔دوسری جانب بقایا ڈی اے کے مطالبے کو لے کر سرکاری ملازمین کی مختلف تنظیمیں مسلسل احتجاج کر رہی تھیں۔ اس سلسلے میں سنگرامی سمیتی منچ کی جانب سے حال ہی میں ہڑتال کی کال بھی دی گئی تھی، تاہم وہ ہڑتال زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔اب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے تازہ اعلان کے بعد سرکاری ملازمین کو بڑی راحت ملی ہے۔ حکومت کے مطابق بقایا ڈی اے کا 25 فیصد حصہ اسی ماہ مارچ میں ادا کر دیا جائے گا جس سے لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
