ہومWest Bengalگیس بحران پروزیرا علی ممتا بنرجی کا مرکز پر شدید حملہ

گیس بحران پروزیرا علی ممتا بنرجی کا مرکز پر شدید حملہ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

مودی اور شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب طلب،پیر کو ریاست بھر میں احتجاج کا اعلان

جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: ملک میں بڑھتے ہوئے گیس بحران کو لے کر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر پارلیمنٹ میں بیان دیں اور ملک میں گیس کے ذخائر اور سپلائی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں واضح جانکاری پیش کریں۔وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کی وجہ سے آج ملک بھر میں گیس کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کا اثر اب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر صاف نظر آنے لگا ہے۔ممتا بنرجی کے مطابق ریاست کے کئی علاقوں میں کھانا پکانے کی گیس کی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کچھ اسکولوں میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت بچوں کے لیے کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے۔ کئی جگہوں پر بچوں کو دال اور چاول کے بجائے صرف ابلے ہوئے انڈے دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسپتالوں، سرکاری ہاسٹلوں اور آئی سی ڈی ایس مراکز کی روزمرہ خدمات بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ مرکزی حکومت بین الاقوامی جنگی صورتحال کو اس بحران کی وجہ بتا رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو پہلے ہی معلوم تھا کہ عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس کے باوجود گیس کا بفر اسٹاک تیار نہیں کیا گیا، جو ایک بڑی انتظامی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں ایک نیا اصول جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق گیس سلنڈر بک کرنے کے بعد دوسرا سلنڈر 25 دن بعد ہی بک کیا جا سکتا ہے۔ ممتا بنرجی نے اس فیصلے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اعلان نے بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کو بڑھاوا دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسے فیصلوں سے پہلے عوام کو مناسب وقت دینا چاہیے تھا تاکہ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق تیاری کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ گیس کی سپلائی مکمل طور پر مرکزی حکومت کی وزارت پٹرولیم کے کنٹرول میں ہے، اس لیے موجودہ بحران کی ذمہ داری بھی مرکز پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اگر حکومت نے پہلے سے مناسب منصوبہ بندی اور ذخیرہ اندوزی کا نظام قائم کیا ہوتا تو آج ملک کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ممتا بنرجی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کئی مہینے پہلے سے مختلف سرکاری اسکیموں کے لیے ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر مڈ ڈے میل اور سفل بنگلہ اسکیم کے لیے آلو اور دیگر اشیاء کو کولڈ اسٹوریج میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاستی حکومت ایسا کر سکتی ہے تو مرکزی حکومت کے پاس بھی توانائی کے شعبے میں اسی طرح کی منصوبہ بندی ہونی چاہیے تھی۔وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ گیس کی کمی کا اثر صرف گھریلو استعمال تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہوٹل، ریستوراں، سیاحت اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے شعبے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کمرشل گیس کی کمی کی وجہ سے کئی ریستوراں اور ہوٹل بند ہونے کے خطرے میں ہیں۔ اسی طرح گیس سے چلنے والے آٹو رکشہ ڈرائیور بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کرایوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مرکزی حکومت ضروری اشیاء ایکٹ (ESMA) یا دیگر سخت قوانین کا سہارا لے کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق پولیس کارروائی یا دھمکیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ بہتر انتظام اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ریاستی حکومت نے پہلے ہی تمام ضلع مجسٹریٹس اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں سے بات کریں اور حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کریں۔ تاہم اگر صورتحال قابو میں نہیں آتی تو حکومت ذخیرہ شدہ گیس کو ضبط کر کے اسے آئی سی ڈی ایس مراکز اور مڈ ڈے میل اسکیم کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے وزیر اعلیٰ نے نوانومیں ایک ہنگامی میٹنگ بھی بلائی ہے، جس میں مختلف محکموں کو متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم ممتا بنرجی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی سپلائی چین مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے ریاستی حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں مرکزی داخلہ سکریٹری نے مختلف ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کی تھی، لیکن اس میں گیس کی سپلائی کو معمول پر لانے کے بارے میں کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں۔وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت فوری طور پر ایک وائٹ پیپر جاری کرے اور ملک میں موجود گیس کے ذخائر کی صحیح معلومات عوام کے سامنے رکھے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو بیرون ملک گیس کی برآمدات کو عارضی طور پر روک کر پہلے ملک کے عوام کی ضروریات کو پورا کیا جانا چاہیے۔اس معاملے کو لے کر ترنمول کانگریس نے پیر کے روز ریاست بھر میں بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ خود بھی اس احتجاج میں حصہ لیں گی اور عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گی۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے گیس بحران کا مسئلہ ریاستی سیاست میں ایک بڑا موضوع بن سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مرکز اور ریاست کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.