وزیر اعلی ممتا بنرجی کے دو دن میں چار بڑے جلسے
مدنی پور، 30 مارچ 2026: مغربی بنگال میں انتخابی بگل بجتے ہی سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ترنمول کانگریس کی سپریمو اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مدنی پور ضلع کو اپنی انتخابی مہم کا مرکز بناتے ہوئے مخالفین کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ریاست کی سیاست میں انتہائی اہمیت کے حامل اس ضلع میں ممتا بنرجی نے محض دو دنوں کے اندر چار دھماکے دار اور بڑے عوامی جلسوں کا شیڈول طے کیا ہے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک “طاقتور انتخابی شو” قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی 30 اور 31 مارچ کو ضلع کے چار اہم حلقوں—ڈیبرا، نارائن گڑھ، چندرکونہ اور گربیٹا—میں عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گی۔ ان چاروں نشستوں پر اس بار ترنمول کانگریس نے اپنے “ہیوی ویٹ” اور بااثر امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مدنی پور میں کسی بھی قسم کا سیاسی خطرہ مول لینے کے حق میں نہیں ہے۔ پیر کے روز ان کی مہم کا آغاز ڈیبرا سے ہوا، جہاں سابق وزیر راجیو بنرجی امیدوار ہیں۔ راجیو بنرجی کی واپسی اور ان کے حق میں ممتا بنرجی کا خود میدان میں اترنا کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اسی دن وہ نارائن گڑھ میں پرتیبھا میتی کے حق میں بھی انتخابی فضا ہموار کریں گی۔
منگل کے روز ممتا بنرجی چندرکونہ اور گربیٹا میں انتخابی جلسوں کی قیادت کریں گی۔ ان جلسوں کا مقصد نہ صرف ووٹوں کا حصول ہے بلکہ پارٹی کے اندرونی اتحاد اور سیاسی اعتماد کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ابھی تک کئی اہم نشستوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے میں الجھی ہوئی نظر آتی ہے، ممتا بنرجی نے خود محاذ سنبھال کر نفسیاتی برتری حاصل کر لی ہے۔ ابھیشیک بنرجی کی جانب سے پہلے ہی کیے گئے دو جلسوں کے بعد اب ممتا بنرجی کی آمد نے اس ضلع کو انتخابی جنگ کا اصل میدان بنا دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مدنی پور روایتی طور پر ایک مشکل میدان رہا ہے، لیکن ممتا بنرجی کا یہ “مراٹھن شو” ثابت کرتا ہے کہ ترنمول کانگریس یہاں اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دینا چاہتی۔ ان جلسوں کے ذریعے وہ براہِ راست عوام سے رابطہ کر کے ترقیاتی ایجنڈے اور علاقائی شناخت کے کارڈ کو مضبوطی سے استعمال کر رہی ہیں۔ دو دن میں چار جلسے کرنا جسمانی اور سیاسی طور پر ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن ممتا بنرجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی جیت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ان جلسوں کے بعد مدنی پور کے سیاسی رخ میں کتنی بڑی تبدیلی آتی ہے۔
