ہومWest Bengalیلڈنگا فسادات کی جانچ پر تنازع

یلڈنگا فسادات کی جانچ پر تنازع

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

این آئی اے کا ریاستی پولیس پر عدم تعاون کا الزام، ہائی کورٹ میں شکایت

کولکاتہ: مرشد آباد کے بیلڈنگا فسادات کی تحقیقات کو لے کر مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور ریاستی پولیس کے درمیان ٹکراؤ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ این آئی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی پولیس کیس ڈائری فراہم نہیں کر رہی اور تحقیقات میں مطلوبہ تعاون نہیں دے رہی۔ اس معاملے کو جمعہ کے روز کلکتہ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس کے سامنے اٹھایا گیا۔چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس چیتالی چٹوپادھیائے داس کی ڈویژن بنچ نے واضح کیا کہ چونکہ اس کیس کی سماعت پہلے ایک مخصوص بنچ کر چکی ہے، اس لیے آئندہ سماعت چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین کی بنچ کرے گی۔ سماعت 24 فروری کو مقرر کی گئی ہے۔دھر کولکاتہ کی خصوصی این آئی اے عدالت نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ بیلڈنگا فسادات میں گرفتار 36 افراد میں سے 31 کو دوبارہ پیش کیا جائے اور مرشد آباد پولیس 26 فروری تک کیس ڈائری این آئی اے کے حوالے کرے۔ عدالت نے مرشد آباد کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور تفتیشی افسر کو بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔این آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر ریاستی پولیس تعاون نہیں کرتی تو وہ گرفتار ملزمان کو برہم پور سے کولکاتہ منتقل کرنے کا بندوبست کرے گی۔ تاہم جج نے پولیس کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت میں پیشی کی ذمہ داری ریاستی پولیس کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نہ سپریم کورٹ آف انڈیا اور نہ ہی ہائی کورٹ نے اپنے کسی حکم میں کیس ڈائری این آئی اے کو نہ دینے کی بات کہی ہے۔16جنوری کو مرشد آباد کے بیلڈنگا علاقے میں ایک مہاجر مزدور کی دوسری ریاست میں موت کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی اور بدامنی پھیلی۔ بیلڈنگا پولیس نے واقعہ کے بعد ایف آئی آر درج کر کے 36 افراد کو گرفتار کیا تھا۔گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جیمالیہ باغچی کی بنچ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی تھی کہ وہ این آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لے۔ عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ این آئی اے اپنی رپورٹ اگلی سماعت میں مہر بند لفافے میں پیش کرے۔ ساتھ ہی ہائی کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اس واقعے میں یو اے پی اے جیسی سخت دفعات لاگو کی جا سکتی ہیں یا نہیں۔گرفتار افراد کو مرشد آباد سے کولکاتہ لانے میں بھی انتظامی مسائل پیش آئے، جس کے باعث انہیں بینک شال عدالت میں جسمانی طور پر پیش نہیں کیا جا سکا۔ بعد ازاں عدالت کے حکم پر ملزمان کی مجازی (ورچوئل) سماعت کرائی گئی۔اب نظریں 24 فروری کی سماعت پر ٹکی ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ ریاستی پولیس اور این آئی اے کے درمیان جاری کشیدگی کا قانونی حل کس رخ اختیار کرتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version