گروپ بندی اور پارٹی مخالف سرگرمیاں ناقابل برداشت
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ : مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے پہلے ترنمول کانگریس کے اندر ٹکٹ کو لے کر ناراضگی اور اختلافات کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں پارٹی سربراہ اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ناراض لیڈروں کو سخت اور صاف پیغام دے دیا ہے کہ صرف اس لیے مخالفت نہیں کی جا سکتی کہ ٹکٹ نہیں ملا۔پیر کے روز نارائن گڑھ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ پارٹی میں ٹکٹ انہی لوگوں کو ملے گا جو عوام کے ساتھ جڑے رہیں گے اور میدان میں کام کریں گے۔ انہوں نے واضح طور پر کہاجو لوگ عوام سے رابطے میں رہیں گے، انہیں ٹکٹ ملے گا۔ اور اگر کسی کو ٹکٹ نہیں ملا، تو ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ میں نے کسی کی بے عزتی نہیں کی۔ممتا بنرجی کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ترنمول کانگریس نے اپنی امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کے بعد کئی پرانے چہروں کو اس بار ٹکٹ نہیں دیا۔ پارٹی نے اس بار 74 موجودہ یا سبکدوش ایم ایل ایز اور 4 وزراء کو امیدوار نہیں بنایا، جس کے بعد کئی لیڈروں نے کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔کچھ لیڈروں نے تو میڈیا کے سامنے پارٹی کے خلاف بات کی، جبکہ بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے۔اس پس منظر میں ممتا بنرجی نے واضح کر دیا کہ پارٹی کے اندر بدامنی، گروپ بندی اور بغاوت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں کبھی ٹکٹ ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی پارٹی کے خلاف جا کر ماحول خراب کرے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہامجھے ایک بار ٹکٹ ملا، اگلی بار مل بھی سکتا ہے اور نہیں بھی مل سکتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں مخالفت شروع کر دوں۔ ہمارا مقصد عوام کے ساتھ رہنا اور متحد ہو کر کام کرنا ہے۔”ممتا بنرجی نے ناراض لیڈروں کو یہ بھی یاد دلایا کہ عوام ایسے رویے کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی صرف ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے پارٹی کے خلاف جاتا ہے، تو لوگ اسے اچھا نہیں سمجھیں گے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے سبھی لیڈروں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اتحاد کے ساتھ کام کریں اور اپنی توجہ عوامی خدمت اور انتخابی جدوجہد پر رکھیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ترنمول کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی بھی ناراض لیڈروں کو سخت پیغام دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ اگر کوئی پارٹی پر دباؤ ڈالنے کے لیے انتشار پھیلانے کی کوشش کرے گا، تو پارٹی اسے ہرگز معاف نہیں کرے گی اور اس کے خلاف سخت تنظیمی کارروائی کی جائے گی۔یعنی اب پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے صاف اشارہ دیا جا چکا ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے پر بغاوت یا بغاوت جیسا رویہ ترنمول میں قبول نہیں کیا جائے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق، انتخاب سے پہلے پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنا ترنمول کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، اور ممتا بنرجی اسی کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
