نذر الاسلام اور ٹیگور کی تعلیمات کے سائے میں اتحاد و ہم آہنگی کی اپیل
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ماہِ رمضان المبارک کے پرمسرت اور مقدس موقع پر ریاست کے عوام بالخصوص مسلم برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے بھائی چارے، مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کا ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔ انہوں نے بنگال کی دیرینہ ثقافتی روایت “کثرت میں وحدت” کو اجاگر کرنے کے لیے مشہور انقلابی شاعر قاضی نذر الاسلام کے شہرۂ آفاق گیت ’’مورا ایک ورنتے دُتی کُسم ہندو۔ مسلم‘‘ (ہم ایک ہی ڈنڈی کے دو پھول ہیں ہندو اور مسلمان) کا حوالہ دیا، جس کا مقصد معاشرے میں اتحاد کی جڑوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔وزیراعلیٰ نے جمعہ کی سہ پہر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس ‘ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ افطار تقریب کی خوبصورت جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ اپنی پوسٹ میں انہوں نے رمضان کی روحانیت، برداشت اور باہمی احترام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا کہ بنگال کی سرزمین صدیوں سے ایسی عظیم شخصیات کی تعلیمات سے منور رہی ہے جنہوں نے ہمیشہ انسانیت اور اتحاد کا درس دیا۔ممتا بنرجی نے خاص طور پر نوبیل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور اور باغی شاعر قاضی نذر الاسلام کی تخلیقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں عظیم شعراء کے پیغامات زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں اور پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پرونے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی انسانیت دوست روایت کو بعد میں عظیم روحانی پیشوا رام کرشن پرمہنس اور ان کے نامور شاگرد سوامی وویکانند نے آگے بڑھایا، جنہوں نے مذہبی رواداری کو محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی طاقت میں بدلنے کی تلقین کی تھی۔جمعرات کو منعقدہ افطار تقریب کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ موقع اجتماعی دعا، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کی ایک روشن علامت ہے۔ جہاں مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے ایک دسترخوان پر بیٹھ کر یہ پیغام دیا کہ رمضان صرف روزے اور عبادت کا مہینہ نہیں ہے، بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے، اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے اور انسانیت کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کا وقت بھی ہے۔ممتا بنرجی کی جانب سے ہر سال رمضان میں افطار تقاریب میں شرکت اور اقلیتی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار دراصل اس سیاسی اور سماجی وژن کا حصہ ہے جو بنگال کی اصل شناخت یعنی “دیرینہ رواداری” کو برقرار رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، یہی وہ خاص پیغام ہے جو مغربی بنگال کو دوسرے خطوں سے ممتاز بناتا ہے اور یہی وہ عظیم ثقافتی ورثہ ہے جسے ہر قیمت پر محفوظ رکھ کر آئندہ نسلوں تک پہنچانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
