کہا:وزیراعظم پاکستان کو سخت جواب دیں یا استعفیٰ دیں
جدید بھارت نیوز سروس
ندیا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے مبینہ کولکاتا پر حملے والے بیان کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک پاکستانی وزیر نے بھارت کے ایک بڑے شہر کو نشانہ بنانے کی بات کی، تو مرکزی حکومت خاموش کیوں رہی؟ ممتا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وزیراعظم اس معاملے پر سخت مؤقف نہیں اپناتے، تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ندیا ضلع میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ پاکستانی وزیر کی دھمکی کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ ملکی سلامتی اور قومی وقار سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو کوچ بہار میں انتخابی جلسہ کرنے گئے تھے، تو انہیں اس معاملے پر کھل کر جواب دینا چاہیے تھا اور پاکستان کو سخت پیغام دینا چاہیے تھا۔ممتا بنرجی نے کہاپاکستانی وزیر کولکاتا پر حملے کی بات کیسے کر سکتا ہے؟ وزیراعظم نے اس پر ایک لفظ بھی کیوں نہیں کہا؟ کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی؟ وہ خاموش کیوں رہے؟ اب تک پاکستان کے خلاف کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا؟انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے اور یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ پاکستانی وزیر کو ایسا بیان دینے کے لیے کس نے اکسایا یا حوصلہ دیا۔ ممتا نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر کولکاتا یا بنگال کو کسی بھی طرح کی دھمکی دی جاتی ہے تو ریاست اسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی۔اپنے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے صرف خارجہ یا سلامتی کے معاملے پر ہی بات نہیں کی، بلکہ اسمبلی انتخابات کو لے کر بھی ترنمول کانگریس کے کارکنوں کو خاص ہدایات دیں۔
انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے دن پارٹی کارکنوں کو بہت محتاط اور چوکس رہنا ہوگا، کیونکہ ابتدائی گھنٹوں میں گمراہ کن خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کارکنوں کو یہ بھی ہدایت دی کہ گنتی مکمل ہونے تک پولنگ بوتھ یا گنتی مراکز کے آس پاس سے نہ ہٹیں اور آخری نتیجے تک پوری نگرانی رکھیں۔اپنے خطاب میں ممتا بنرجی نے بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ خواتین کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی یا چھیڑ چھاڑ ناقابل قبول ہے۔ ی وی ایم کے معاملے پر بھی ممتا بنرجی نے واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں کوئی خرابی سامنے آئے تو صرف مرمت کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ فوری طور پر مشین تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جائے، تاکہ ووٹنگ کا عمل شفاف اور بے خوف طریقے سے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے دوسری ریاستوں سے مغربی بنگال میں پیسہ اور منشیات لائی جا رہی ہیں۔ ممتا نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور مناسب وقت پر اس کی ویڈیوز بھی سامنے لائی جائیں گی۔ریلی میں ممتا بنرجی نے پاکستانی دھمکی، مرکزی حکومت کی خاموشی، انتخابی شفافیت، ای وی ایم، بی ایس ایف اور بیرونی پیسے و منشیات جیسے کئی حساس موضوعات پر ایک ساتھ جارحانہ حملہ کیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب بنگال میں انتخابی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہر سیاسی بیان براہ راست انتخابی ماحول پر اثر ڈال رہا ہے۔
