مودی۔شاہ کے اشارے کی منتظر قیادت
دہلی/کولکاتہ: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے چھاپوں کے دوران ترنمول کانگریس کی فائلیں برآمد ہونے کے بعد بنگال کی سیاست میں زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جس جارحانہ انداز میں میدان سنبھالا ہے، اس نے بنگال بی جے پی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی لیڈر اس بات پر تذبذب کا شکار ہیں کہ اس صورتحال کا سیاسی جواب کیسے دیا جائے، اسی لیے وہ دہلی میں بیٹھی مرکزی قیادت، یعنی مودی اور شاہ، کے اشارے کے منتظر ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ممتا بنرجی کی سیاسی ذہانت اور فوری حکمتِ عملی کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ بی جے پی کے کئی لیڈر بھی نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ ممتا اس وقت پارٹی پر سبقت لے چکی ہیں۔ ایک سینئر بی جے پی لیڈر کے مطابق، اگر ای ڈی یا عدالت کی جانب سے کوئی سخت کارروائی ہوئی تو ترنمول کانگریس اسے عوامی ہمدردی میں بدل سکتی ہے اور یہ پروپیگنڈہ کر سکتی ہے کہ مرکز سیاسی ایجنسیوں کے ذریعے بنگال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کو فائدہ ہو سکتا ہے۔دوسری طرف، اپوزیشن جماعتیں بھی ممتا بنرجی کے حق میں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر لیڈر و راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے ای ڈی کی کارروائیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ کپل سبل نے کہا کہ ای ڈی کوئی “بھگوان” نہیں جو جو چاہے اٹھا لے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جہاں جہاں الیکشن ہوتے ہیں وہاں ای ڈی پہنچ جاتی ہے۔ محبوبہ مفتی نے ممتا کو ’ـشیرنی ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی جھکنے والی نہیں ہیں۔ایسی صورتحال میں بنگال بی جے پی کے سامنے دو ہی راستے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک، وہ مودی۔شاہ کی ہدایات کا انتظار کرے تاکہ بعد میں ساری ذمہ داری دہلی پر ڈالی جا سکے۔ دوسرا، اگر سپریم کورٹ کوئی حکم دیتا ہے تو اس کی آڑ میں اپنا دفاع کیا جائے۔ ایک لیڈر کے الفاظ میں، ہم آری پر بیٹھے ہیں، بولیں تو بھی نقصان، خاموش رہیں تو بھی نقصان۔فی الحال بنگال بی جے پی کی قیادت دفاعی پوزیشن میں ہے اور وہی بیانات دہرا رہی ہے جو دلیپ گھوش اور مرکزی وزیر سوکانت مجمدار دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر سیاسی منظرنامہ یہی بتا رہا ہے کہ ممتا بنرجی نے ایک بار پھر سیاسی بساط پر بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جبکہ ریاستی بی جے پی دہلی کے اشارے کی منتظر کھڑی ہے۔
