بی جے پی اورالیکشن کمیشن کی سازش:وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا سنگین الزام
جدید بھارت نیوز سروس
مرشد آباد، 02 اپریل 2026 : مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے جمعرات کے روز مالدہ ضلع کے کالیاچک میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ مرشد آباد ضلع کے ساگردیگھی میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ سات عدالتی افسران کے ساتھ کی گئی بدسلوکی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ایک “مشترکہ سازش” کا حصہ ہے، جس کا اصل مقصد ریاست کے امن و امان کو سبوتاژ کر کے یہاں صدر راج کے نفاذ کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد ریاست کی تمام انتظامی اور حفاظتی مشینری کمیشن کے ماتحت ہے، لہٰذا عدالتی افسران کی حفاظت کو یقینی بنانا مکمل طور پر الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ چونکہ اس وقت ریاستی حکومت کا انتظامیہ پر براہ راست کنٹرول نہیں ہے، اس لیے سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکامی کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ ممتا بنرجی نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ کسی بھی قیمت پر امن برقرار رکھیں اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیں۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ووٹر لسٹوں سے نام نکالے جانے کے حساس مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جن لوگوں کے نام فہرست سے نکالے گئے ہیں، ان کی شکایات درست ہو سکتی ہیں اور ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی قسم کے اشتعال کا شکار نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض قوتیں مغربی بنگال کی شبیہ کو عالمی سطح پر خراب کرنے اور انتخابی عمل میں دانستہ طور پر خلل ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ریاست کو بدنام کیا جا سکے۔نام لیے بغیر وزیر اعلیٰ نے حیدرآباد کی سیاسی جماعت اے آئی ایم آئی ایم اور سابق ایم ایل اے ہمایوں کبیر کی نئی جماعت کے کردار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سیاسی قوتوں نے لوگوں کو سڑکیں بلاک کرنے اور عدالتی افسران کا گھیراؤ کرنے کے لیے اکسایا، جو کہ ریاست کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے عوام کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست میں بدامنی پھیلتی ہے تو اس کا براہ راست سیاسی فائدہ بی جے پی کو پہنچے گا، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ نئے چیف سکریٹری کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے مالدہ جیسے واقعات نے ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
