امیدواروں کی فہرست میں بڑے رد و بدل کا امکان
جدید بھارت نیوز سروس
کولکات: ترنمول کانگریس نے 2026 کے اسمبلی انتخابات اور آئندہ راجیہ سبھا چناؤ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی بساط بچھانا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے آل انڈیا جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے درمیان کالی گھاٹ واقع رہائش گاہ پر ڈیڑھ گھنٹے سے زائد طویل اور اہم ملاقات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق بند کمرے میں ہونے والی اس میٹنگ میں تنظیمی حکمتِ عملی، امیدواروں کے انتخاب اور پارلیمانی نمائندگی جیسے حساس موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرست میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کن موجودہ ارکان کو دوبارہ ٹکٹ دیا جائے گا اور کن کو ڈراپ کیا جائے گا، اس پر ابتدائی اتفاق رائے بن چکا ہے۔ پارٹی قیادت اس بار صاف شبیہ، عوامی رابطے اور زمینی سرگرمی کو بنیادی معیار بنا رہی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نوجوان قیادت کو زیادہ موقع دینے اور کچھ چونکانے والے نام سامنے لانے کی تیاری بھی جاری ہے، تاکہ تنظیم کو نئی توانائی مل سکے اور انتخابی میدان میں تازہ تاثر قائم کیا جا سکے۔راجیہ سبھا انتخابات بھی سر پر ہیں اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ پارٹی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا تجربہ کار چہروں کو دہلی بھیجا جائے یا کسی نئے اور متحرک لیڈر کو موقع دیا جائے۔یاد رہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ترنمول نے دنیش ترویدی، موسم بے نظیر نور اور ارپیتا گھوش کو راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ بعد میں دنیش ترویدی نے 2021 میں پارٹی چھوڑ دی، جس کے بعد ریٹائرڈ بیوروکریٹ ظہر سرکار کو ایوان بالا میں بھیجا گیا۔ تاہم ظہر سرکار کے استعفیٰ کے بعد ریتابرت بنرجی کو نامزد کیا گیا۔ ان تمام پیش رفتوں کے پس منظر میں اس بار پارٹی قیادت کافی محتاط حکمتِ عملی اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ میٹنگ میں صرف انتخابی حکمتِ عملی ہی نہیں بلکہ عوامی رابطہ مہم پر بھی غور کیا گیا۔ آنے والے دول یاترا تہوار کو پارٹی عوام تک پہنچنے کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اطلاع کے مطابق ضلعی سطح پر خصوصی پروگرام ترتیب دیے جائیں گے تاکہ تہوار کے ماحول میں عوامی رابطے کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ترنمول کے اندر اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پرانے چہرے برقرار رہیں گے یا پارٹی نوجوان قیادت پر داؤ کھیلے گی؟ کالی گھاٹ میں ہونے والی حالیہ ملاقات نے واضح کر دیا ہے کہ حتمی فہرست پر آخری مہر ممتا بنرجی ہی لگائیں گی، اور اس بار معیار ہوگاساکھ، کارکردگی اور طویل مدت تک سیاسی جدوجہد کی صلاحیت۔آنے والے دنوں میں امیدواروں کی فہرست جاری ہوتے ہی ریاستی سیاست میں نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
