کولکاتہ: مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت ایک غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ ریاست بھر میں تقریباً 94 لاکھ 49 ہزار ووٹروں کو ’’منطقی وضاحت‘‘ کے تحت سماعت کے لیے بلانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سماعتیں آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار شروع ہوں گی، جس سے بنگال کی انتخابی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ’’منطقی وضاحت‘‘ سے مراد وہ معاملات ہیں جہاں ووٹر کے ڈیٹا میں کسی قسم کا تضاد پایا گیا ہو۔ اس میں عمر، پتہ، خاندان کے افراد سے متعلق معلومات، موت کے ریکارڈ یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی جیسے امور شامل ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد کسی کو ووٹر لسٹ سے باہر کرنا نہیں بلکہ فہرست کو غلطیوں سے پاک اور شفاف بنانا ہے تاکہ اہل ووٹر کا حق محفوظ رہے اور نااہل افراد کے نام شامل نہ ہوں۔ادھر اس عمل کو لے کر ریاست میں سیاسی ماحول پہلے ہی گرم ہو چکا ہے۔ ترنمول کانگریس مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ SIR کے نام پر عام لوگوں، خاص طور پر بزرگوں، خواتین، غریبوں اور مہاجر مزدوروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر اپنی تشویش ظاہر کر چکی ہیں اور دعویٰ کر رہی ہیں کہ بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام بلاوجہ نشانے پر لیے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن تاہم ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ سماعتوں کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ ہو اور انتخابی فہرست پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ شمالی اور جنوبی کولکاتہ سے لے کر اضلاع تک ہونے والی یہ سماعتیں بنگال کے انتخابات سے قبل ایک بڑا انتظامی اور سیاسی امتحان سمجھی جا رہی ہیں۔
9.4 لاکھ ووٹروں کی سماعت: بنگال میں SIR کو لے کر الیکشن کمیشن کا بڑا آپریشن
مقالات ذات صلة
