وزیر اعلی ممتا بنرجی نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا
کولکاتہ: مغربی بنگال کی سیاست کو بدل دینے والے نندی گرام سانحہ کو آج 19 سال مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شہداء کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس دن کو بنگال کی تاریخ کا ایک اہم اور دردناک باب قرار دیا۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ نندی گرام ڈے کے موقع پر وہ نندی گرام، سنگور اور نیتائی سمیت تمام شہداء کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں جان گنوانے والے لوگ ہمیشہ عوامی جدوجہد اور جمہوریت کی علامت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔واضح رہے کہ 14 مارچ 2007 کو نندی گرام میں زمین کے حصول کے خلاف چل رہی تحریک کے دوران پولیس کی فائرنگ میں کئی دیہاتیوں کی جان چلی گئی تھی۔ اس واقعہ نے اس وقت پورے بنگال کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بنیاد بن گیا تھا۔ اس وقت ممتا بنرجی اپوزیشن کی رہنما تھیں اور انہوں نے اس واقعہ کے خلاف زبردست تحریک چلائی تھی۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نندی گرام اور سنگور کی تحریکوں نے ہی 2011 کے اسمبلی انتخابات میں تبدیلی کی راہ ہموار کی، جس کے بعد ترنمول کانگریس پہلی بار اقتدار میں آئی۔ اس کے بعد سے ہر سال 14 مارچ کو نندی گرام ڈے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں بنگال کی سیاست میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اس وقت کی حکمران جماعت سی پی ایم اب ریاستی سیاست میں کمزور ہو چکی ہے، جبکہ بی جے پی اب بڑی اپوزیشن پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت ممتا بنرجی کے ساتھ تحریک میں شامل رہنے والے سبیندو ادھیکاری اب بی جے پی میں ہیں اور ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔نندی گرام آج بھی ممتا بنرجی کے لیے ایک جذباتی اور سیاسی طور پر اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کئی بار کہا ہے کہ وہ 2007 کے اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول سکتیں اور اسے عوامی حقوق کے لیے لڑی گئی ایک بڑی جدوجہد کے طور پر دیکھتی ہیں۔ہر سال کی طرح اس بار بھی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے نندی گرام سانحہ کے شہداء کو یاد کیا گیا اور ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
