کمیشن پر سنگین الزام، جمہوریت خطرے میں :ممتا بنرجی
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ : مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل کے بعد کم از کم ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹروں کے نام حتمی فہرست سے خارج ہو سکتے ہیں، جو جمہوری عمل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن اف انڈیا منطقی تضادات کا جواز دے کر خاموشی سے ووٹروں کے نام حذف کر رہا ہے۔بھوانی پور میں جین مناستمبھ سمیت کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے ہی تقریباً 58 لاکھ نام حذف کیے جا چکے ہیں، اور اگر مبینہ طور پر 20 لاکھ مردہ ووٹروں کے اندراج کو نکالا جائے تو کل تعداد 1.2کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کون سا ووٹر کس پارٹی، مذہب یا نظریے سے تعلق رکھتا ہے—اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی صحیح ووٹر کا حق رائے دہی متاثر نہ ہو۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر خودسپریم کورٹ آف انڈیامیں قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ ان کے مطابق عدالت کی ہدایات کے باوجود کئی دن گزر چکے ہیں مگر عملدرآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جب 28 فروری کو حتمی فہرست جاری ہوگی تو بہت سے شہری اپنے نام نہ پا کر شدید مایوسی کا شکار ہوں گے۔دوسری جانب الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق فہرست مقررہ تاریخ پر شائع کی جائے گی، جبکہ ضمنی فہرستیں بعد میں جاری کی جا سکتی ہیں۔ فی الحال عدالتی افسران دستاویزات کی جانچ میں مصروف ہیں، تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا تمام اعتراضات اور جانچ کا عمل مقررہ وقت تک مکمل ہو پائے گا یا نہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹر لسٹ کا یہ تنازع انتخابی منظرنامے پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ووٹروں کی بڑی تعداد کے ممکنہ اخراج کا معاملہ ریاستی سیاست کا مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے۔
