International

ایران میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری، سپریم لیڈر خامنہ ای اور صدر رئیسی نے ڈالا ووٹ

82views

تہران: ایران کے 12ویں پارلیمانی اور مجلس خبرگان رہبری کے انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ دریں اثنا، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی نے اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کی 288 اور مجلس خبرگان کی 88 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں ملک بھر سے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد حصہ لے رہے ہیں۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے 18 سال پورا ہونا شرط ہے۔ ایرانی الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 6 کروڑ 11 لاکھ سے زائد شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپریم لیڈر خامنہ ای 8 بجے ووٹنگ کا وقت شروع ہوتے ہی حسینیۂ امام خمینی میں بنائے گئے موبائل پولنگ بوتھ میں پہنچ گئے اور انھوں نے پارلیمنٹ کے بارہویں دور کے اور ماہرین کونسل کے چھٹے دور کے انتخابات کے لیے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

سپریم لیڈر نے اس موقع پر کہا، ’’ہم خداوند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آج کے دن کو ایرانی قوم کے لیے ایک مبارک دن قرار دے اور ہمارے عزیز عوام اور انتخابات کے مختلف امور کے منتظمین کی کوششیں ان شاء اللہ مطلوبہ نتائج تک پہنچیں اور یہ الیکشن ایرانی قوم کے حق میں رہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے دوست اور ایرانی قوم سے پیار کرنے والے افراد بھی اور اس کے دشمن اور بدخواہ بھی اس الیکشن پر نظریں رکھے ہوئے ہیں اور ہر طرف سے ہمارے ملک کے مسائل کو دیکھا جا رہا ہے، بنابریں ہماری عزیز قوم اس بات پر توجہ رکھے اور دوستوں کو خوش اور بدخواہوں کو مایوس کر دے۔

اس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے انقلاب اسلامی کو نئی روح ملتی ہے۔ عوامی رائے راستہ کو معین کرتی ہے۔ ملک کے انتظامی شعبے عوامی رائے اور حمایت کے ساتھ فعالیت کرتے ہیں۔ یہی ایران کے جمہوری اور اسلامی نظام کی خصوصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی نے فرمایا کہ عوامی رائے معیار اور میزان ہے۔ آج تک یہی معیار رہا ہے اور انتخابات قومی وحدت اور انسجام کا بہترین ذریعہ ہے۔

صدر رئیسی نے کہا کہ ایران اور دوسرے ممالک کے انتخابات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تمام سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ اس انتخابی عمل میں کسی کو شکست نہیں ہوتی بلکہ عوام سمیت تمام امیدوار اور جماعتیں کامیاب ہوتی ہیں کیونکہ سب نے مل کر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔

Follow us on Google News