National

ممبئی کے شیواجی پارک سے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے اختتامی اجلاس کا آنکھوں دیکھا حال

ممبئی کے شیواجی پارک سے بھارت جوڑو نیائے یاترا کے اختتامی اجلاس کا آنکھوں دیکھا حال
73views

دادر ریلوے اسٹیشن سے مغرب کی سمت بہ مشکل 5 منٹ پیدل کی دوری پر وہ تاریخی شیواجی پارک واقع ہے جہاں آج راہل گاندھی جلسۂ عام سے خطاب کرنے والے ہیں اور جہاں سے انڈیا الائنس کی لوک سبھا کی انتخابی مہم کا بگل بجایا جائے گا۔ اس میدان کی شناخت یوں تو بال ٹھاکرے اور شیوسینا سے ہے مگر یہ مزدور تحریکات کا بھی مرکز رہا ہے۔ اس تاریخی میدان میں ہونے والا یہ جلسۂ عام یوں تو بھارت جوڑو نیائے یاترا کی اختتامی تقریب ہے لیکن یہ انڈیا اتحاد کے لیے اہمیت کا حامل ہے، جس میں اتحاد کے تمام اہم لیڈران شریک ہونے والے ہیں۔

جلسۂ عام 6 بجے ہونا تھا لیکن 5 بجے تک ایسا لگ رہا تھا کہ نصف گھنٹے کے بعد ہی یہ وسیع و عریض میدان تنگئی داماں کی شکایت کرنے لگے گا! لوگوں کو ایک ریلا تھا جو چلا آ رہا تھا۔ میدان کے مغربی سمت میں 3 اسٹیج بنائے گئے ہیں۔ درمیان کا اسٹیج دو سو فٹ طویل بتایا جا رہا ہے جبکہ اطراف کے سو فٹ کے ہیں۔ اسٹیج کے عقب پر بھارت جوڑو نیائے ’منزل‘ کے گرافک والا اسکرین رواں دواں ہے۔ یہاں بھارت جوڑو نیائے یاترا کے جتنے بھی بینر یا پوسٹر نظر آ رہے ہیں ان سب پر بھارت جوڑو نیائے ’منزل‘ لکھا ہوا ہے، جس کا مطلب غالباً بھارت جوڑو نیائے یاترا کے اپنی منزل تک پہنچنے سے ہے۔

ابھی لیڈران کی آمد کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا مگر ہر پارٹی کے کارکنان اپنے مخصوص بینر و پوسٹر کے ساتھ اپنے لیڈر کے استقبال کے لیے نظر آ رہے تھے۔ پورا میدان جھنڈوں اور بینروں سے بھرا پڑا ہے۔ انڈیا الائنس میں جتنی پارٹیاں ہیں، ان تمام پارٹیوں کے جھنڈے ایک ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ کانگریس، این سی پی-شرد چندر پوار، شیوسینا-ادھو ٹھاکرے، آر جے ڈی، عام آدمی پارٹی و دیگر پارٹیوں کے جھنڈے ایک کے ایک بعد قطار میں لگے ہوئے ہیں۔ اسٹیج کے پشت کی جانب ایک بڑی اسکرین آویزاں ہے جس پر راہل گاندھی اور بھارت جوڑو نیائے یاترا کے مختلف مراحل کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ انڈیا الائنس کے لیڈران کی بھی تصویریں ہیں جن کو دیکھ کریہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بھلے ہی منی پور سے ممبئی تک کا 6700 کلومیٹر کا سفر راہل گاندھی نے طے کیا ہو لیکن انڈیا الائنس ان کے ساتھ رہا ہے۔ اسٹیج پر ان لیڈران کی تصویریں دیکھ کر قومی میڈیا کے ذریعے پیدا کیا جانے والا یہ تاثر کافور ہو جاتا ہے کہ انڈیا الائنس میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے یا اس کے لیڈران ایک دوسرے سے نالاں ہیں۔

پورا اسٹیج بقعہ نور بنا ہوا ہے اور لیڈران کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں سلیقے سے سجی ہوئی ہیں۔ چونکہ ابھی پروگرام کے باقاعدہ آغاز میں تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد باقی تھا اس لیے کچھ لوگ جلسہ گاہ میں چلتے پھرتے بھی نظر آ رہے تھے، مگر مجموعی طور پر بیشتر لوگ اپنی اپنی نشتوں پر بیٹھ چکے تھے۔ اسٹیج کے سامنے ہی ایک حصہ خواتین کے لیے بھی مخصوص ہے، جو پہلے ہی بھر چکا تھا، جبکہ اس کے عقب میں میڈیا والوں کے لیے ایک حصہ مخصوص کیا گیا ہے جہاں ان کے بیٹھنے اور کیمرہ وغیرہ کے استعمال کے لیے ایک بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے۔ اسی اسٹیج پر قومی میڈیا کے چینل اپنے اپنے ٹرائی پڈ لگائے کھڑے ہیں۔

جلسہ گاہ میں لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر انداز لگایا جا سکتا ہے کہ جتنے لوگ بھی اس میں شریک ہوئے ہیں وہ سب پورے دل سے یہاں پہنچے ہیں۔ ایسا ہی منظر بھارت جوڑو یاترا کے دوران نومبر 2022 میں اکولہ کے قریب شیگاؤں میں نظر آیا تھا جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 4 سے 5 لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ وہ جلسہ بھی راہل گاندھی کا تھا اور یہ آج کا یہ جلسہ بھی راہل گاندھی کا ہے۔ شیگاؤں کے اس جلسے میں مہاراشٹر کے دیہی علاقوں کے لوگوں شریک ہوئے تھے جبکہ یہ جلسہ عام شہر میں ہو رہا ہے لیکن شرکا کے جوش و خروش یہاں بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

اس شیواجی پارک میدان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب بال ٹھاکرے زندہ تھے اور یہاں وہ اپنی دسہرہ ریلی کرتے تھے تو ان کو سننے اور دیکھنے والوں سے یہ میدان بھر جایا کرتا تھا۔ وہی منظر آج بھی نظر آ رہا ہے اور میدان ان لوگوں سے بھر گیا ہے جو راہل گاندھی کیو سننے اور دیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ شیوسینا اور این سی پی کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد کہا یہ جانے لگا تھا کہ اب ان دونوں پارٹیوں خاص طور سے شیوسینا کی طاقت ممبئی میں کم ہو گئی ہے، لیکن آج کا پروگرام دیکھ کر یہ بات محض افواہ معلوم ہوتی ہے۔ شیوسینا و انڈیا الائنس کی اصل طاقت اگر کسی کو دیکھنی ہے تو وہ شیواجی پارک میں آ جائے جس میں راہل گاندھی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے بھی شریک ہو رہے ہیں۔

پورے جلسہ گاہ میں راہل گاندھی، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور سونیا گاندھی کے کٹ آؤٹ لگے ہوئے ہیں۔ پرگرام کے دوران مشہور فلم ڈائریکٹر وشال بھاردواج کے آنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ انہوں نے اپنی مشہور فلم  ماچس و دیگر فلموں کے نغمے بھی سنائے۔

اس موقع پر ایک عمر رسیدہ خاتون کے نعرے نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، جس کے ساتھ غالباً اس کی بیٹی تھی۔ وہ نعرے لگا رہی تھی ’’کچھ بھی ہو جائے راہل ہم تیرے ساتھ ہیں۔‘‘ جبکہ میڈیا کے لیے مخصوص حصے سے متصل ایک حصے سے کچھ نوجوان مسلسل ’راہل گاندھی آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

شام 6 بجکر 40 منٹ پر پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مہاراشٹر اسمبلی میں کانگریس کے حزبِ اختلاف کے لیڈر وجئے ویڈیٹی وار نے راہل گاندھی کے جلسہ گاہ میں آنے کی خبر دی جس کے بعد پورے جلسہ گاہ سے راہل گاندھی زندہ باد کے نعرے سنائی دیئے۔ اس جلسہ عام میں راہل گاندھی، شرد پوار، ادھو ٹھاکرے، تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ چمپئی سورین و انڈیا الائنس میں شامل 15 سے زائد پارٹیوں کے لیڈران کے شرکت کی وجئے ویڈیٹی وار نے خبر دی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے بعد ضابطۂ اخلاق کے نفاذ کے بعد یہ انڈیا الائنس کا پہلا جلسۂ عام ہے۔جس وقت یہ سطور آپ تک پہنچائی جا رہی ہیں، راہل گاندھی جلسۂ گاہ میں تشریف لاچکے ہیں۔ پورے جلسۂ گاہ راہل گاندھی کے لیے نعرۂ تحسین بلند ہو رہی ہے۔

Follow us on Google News