ڈھاکہ، 12 جنوری (یواین آئی )بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کا موجودہ سیزن ایک تاریخی لمحے کا گواہ بن گیا ہے، جہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار باپ اور بیٹے کی جوڑی ایک ساتھ ایک ہی ٹیم کے لیے میدان میں اتری۔ افغانستان کے اسٹار کرکٹر محمد نبی اور ان کے بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے ‘نوکھالی ایکسپریس کی جانب سے کھیلتے ہوئے نہ صرف ڈیبیو کیا بلکہ ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ دونوں ایک ٹیم میں تھے، بلکہ دونوں نے گراؤنڈ کے بیچوں بیچ اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔19 سالہ حسن عیسیٰ خیل نے اپنے ڈیبیو میچ میں ہی جارحانہ کھیل پیش کیا اور محض 60 گیندوں پر 92 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی۔ حسن نے اپنے والد محمد نبی کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کے لیے 53 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی، جو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نبی کا کہنا تھا”میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلنے پر بے حد خوش ہوں اور اس دن کا مجھے برسوں سے انتظار تھا۔ میں نے حسن کو ایک پروفیشنل کرکٹر بنانے کے لیے بہت محنت کی ہے۔ میچ سے قبل ہم نے 90 منٹ تک خصوصی سیشن کیا جس میں میں اسے بولرز کی حکمتِ عملی کے بارے میں سمجھاتا رہا۔دوسری جانب نوجوان حسن عیسیٰ خیل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے والد بہترین دوستوں کی طرح ہیں۔ انہوں نے بتایا”والد ٹریننگ کے دوران سخت نظم و ضبط کے قائل ہیں لیکن عام زندگی میں وہ بہت نرم مزاج ہیں۔ میرا سب سے بڑا خواب اب افغانستان کی قومی ٹیم کے لیے اپنے والد کے ساتھ کھیلنا ہے۔اس تاریخی جوڑی کی بدولت نوکھالی ایکسپریس نے ڈھاکہ کیپیٹلز کو 41 رنز سے عبرتناک شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن بہتر کر لی ہے۔ کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس کرکٹ میں تو ایسی مثالیں ملتی ہیں، لیکن ایک بڑے ٹی ٹوئنٹی لیگ میں باپ بیٹے کا ایک ساتھ کھیلنا اپنی نوعیت کا پہلا عالمی اعزاز ہے۔
