لاہور،2 فروری (یو این آئی ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل کرکٹ کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب حکومتِ پاکستان نے ہندوستان کے خلاف 15 فروری کو ہونے والے ہائی وولٹیج میچ میں شرکت نہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی، جو اکثر ہند۔پاک کرکٹ تعلقات کی بحالی کے حامی رہے ہیں، اس بار اپنی حکومت کے سخت موقف کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا”اگرچہ ورلڈ کپ میں ہندوستان کے خلاف میچ نہ کھیلنا شائقین کے لیے افسوسناک ہے، لیکن موجودہ حالات میں وہ اپنی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔آفریدی نے مزید کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کرکٹ کو سیاست کے دروازے کھولنے کا ذریعہ سمجھا ہے، لیکن اب گیند آئی سی سی کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ ایک غیر جانبدار اور خود مختار ادارہ ہے جو تمام رکن ممالک کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتا ہے۔اس سیاسی تناؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے ہندوستان میں سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، آئی سی سی نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا اور بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
