وانکھیڑے میں ’ناقابلِ یقین‘ جیت کی کہانی
ممبئی، 06 مارچ (یو این آئی) کرکٹ میں جیت ہمیشہ اس ٹیم کی ہوتی ہے جو دباؤ ڈالنا اور اس کا سامنا کرنا جانتی ہو، اور گزشتہ رات وانکھیڑے اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کی جیت اس کی بہترین مثال تھی۔ جب انگلینڈ کو آخری 3 اوورز میں 45 رنز درکار تھے، تو کپتان سوریا کمار یادو نے جسپریت بمراہ کے آخری اوور پر جوا کھیلا جو کہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔انگلش کوچ برینڈن میک کولم نے ‘اسکائی اسپورٹس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا، “ہمیں مساوات بدلنے کے لیے تین چھکوں کی ضرورت تھی، لیکن ہمارا سامنا دنیا کے بہترین گیند باز سے ہوا جس نے شاندار طریقے سے گیم ختم کر دیا۔” انگلینڈ کی ٹیم، جو اب تک 21 چوکے اور 15 چھکے لگا چکی تھی، بمراہ کے 18ویں اوور میں صرف 6 رنز بنا سکی۔جیکب بیتھل اور سیم کرن، جو 27 گیندوں پر 50 رنز کی شراکت قائم کر چکے تھے، بمراہ کے یارکرز اور سلو گیندوں کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ ‘پلیئر آف دی میچ‘ سنجو سیمسن نے جیت کا سہرا بمراہ کے سر باندھتے ہوئے کہا، “جسپریت بمراہ نسلوں میں پیدا ہونے والے گیند باز ہیں۔ اگر وہ ڈیتھ اوورز میں ایسی گیند بازی نہ کرتے تو شاید میں یہاں کھڑا نہ ہوتا۔ یہ ایوارڈ اصل میں ان کا حق ہے۔”میچ کا سب سے یادگار لمحہ پانچویں اوور کی پہلی گیند تھی جب بمراہ نے ہیری بروک کو اپنی مخصوص ‘سلو ون‘ سے دھوکہ دیا۔ بروک نے گیند ہوا میں اچھالی اور اکشر پٹیل نے پوائنٹ کی جانب پیچھے دوڑتے ہوئے ایک ناقابلِ یقین کیچ پکڑ کر سب کو حیران کر دیا۔ خود ہیری بروک نے مایوسی کے عالم میں کہا، “یہ میری زندگی میں دیکھے گئے بہترین کیچز میں سے ایک تھا۔”بمراہ نے 4 اوورز میں 33 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی، لیکن ان کے 24 گیندوں کے اسپیل میں انگلینڈ کی جارحانہ ٹیم صرف 4 چوکے لگا سکی۔وہ اس ورلڈ کپ میں 10 وکٹیں لے چکے ہیں اور ان کا اکانومی ریٹ (6.62) ٹورنامنٹ کے تمام فاسٹ گیند بازوں میں بہترین ہے۔کپتان سوریا کمار یادو نے بمراہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مشکل وقت میں ٹیم کے لیے کھڑے ہونے والے کھلاڑی ہیں۔ اگرچہ ہندوستانی اسپنرز مہنگے ثابت ہوئے اور 7 اوورز میں 99 رنز دیے، لیکن ارشدیپ، ہاردک اور بالخصوص بمراہ کی گیند بازی نے 254 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ کی پیش قدمی روک کر ہندوستان کو فائنل میں پہنچا دیا۔
